
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں 20 دسمبر کو ’کیا خدا کا وجود ہے؟‘ کے عنوان سے ایک تاریخی فکری مناظرہ منعقد ہوا، جس میں بالی ووڈ کے مشہور نغمہ نگار، شاعر اور ملحد جاوید اختر اور نوجوان اسلامی سکالر اور وحیین فاؤنڈیشن کے بانی مفتی شمائل احمد عبداللہ ندوی آمنے سامنے تھے۔
یہ مناظرہ کئی ماہ کی تیاری کے بعد ہوا اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہے، جس نے شدید بحث چھیڑ دی ہے۔
مناظرے کی میزبانی معروف صحافی سورابھ ڈیوڈی (للن ٹاپ) نے کی، جبکہ بعض رپورٹس میں ابھیسار شرما کا نام بھی سامنے آیا۔ یہ تقریب کولکتہ میں اردو اکیڈمی کے ایک پروگرام کی منسوخی سے جڑی ہے، جہاں جاوید اختر کی شرکت پر بعض مسلم تنظیموں (بشمول وحیین فاؤنڈیشن) کے احتجاج کے بعد ایونٹ ملتوی کر دیا گیا تھا۔
مفتی شمائل ندوی نے دعویٰ کیا کہ ان کی تنظیم نے جاوید اختر کو کولکتہ آمد پر خیرمقدم کیا اور مناظرے کی دعوت دی تھی۔
مناظرے میں جاوید اختر نے خدا کے وجود پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے دنیا میں موجود ظلم و ناانصافی کا حوالہ دیا، خاص طور پر غزہ میں ہزاروں بچوں کی اموات کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا: ”اگر خدا قادر مطلق اور ہر جگہ موجود ہے تو غزہ میں بچوں کے دھجیاں اڑنے کو کیوں روک نہیں سکتا؟ تم دیکھ رہے ہو اور چاہتے ہو کہ میں تیری پرستش کروں؟ اس سے اچھے تو ہمارے پرائم منسٹر ہیں، کچھ تو خیال کرتے ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا کہ اگر خدا چھوٹی دعائیں (نوکری، شادی، گرین کارڈ) سن سکتا ہے تو بچوں کو مرنے سے کیوں نہیں روکتا؟ جاوید اختر نے ڈائنوسارز کا مذہبی کتابوں میں ذکر نہ ہونے کو بھی دلیل بنایا۔
دوسری طرف مفتی شمائل ندوی نے عقلی اور فلسفیانہ دلائل پیش کیے، جیسے کائنات کی contingency (وابستگی) اور infinite regress کا انکار، یہ کہتے ہوئے کہ دنیا کی اکثریت خدا پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے نازی جرمنی کی اکثریت کے فیصلے کا مثال دے کر جاوید اختر کی ’اکثریت درست ہے‘ والی دلیل کو چیلنج کیا۔
مفتی صاحب نے برائی کو free will اور امتحان سے جوڑا اور کہا کہ سائنس ’کیسے‘ بتاتی ہے جبکہ مذہب ’کیوں‘۔ ڈائنوسارز کے سوال پر ان کا جواب تھا کہ میتھ کی کتاب میں بھی ڈائنوسار کا ذکر نہیں، تو کیا وہ فالتو ہے؟مناظرہ ختم ہونے کے بعد مفتی شمائل ندوی نے کہا کہ موجودہ حالات میں محبت اور تعلیمی انداز میں بحث کرنا ایک سنگ میل ہے، اور جاوید اختر کی ٹیم کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف خیالات والوں کو لڑائی کے بجائے کافی پیتے ہوئے بات کرنی چاہیے۔سوشل میڈیا پر ردعمل تقسیم ہے: کچھ نے جاوید اختر کی جرأت اور منطق کو سراہا، جبکہ اکثریت نے مفتی شمائل کی مدلل دلائل کو برتر قرار دیا۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے جاوید اختر پر تنقید کی کہ لبرلز ہندوتوا کے انڈیا میں اپنا جواز پیش کر رہے ہیں۔ پاکستانی صحافیوں اور صارفین نے جاوید اختر کے دلائل کو سطحی قرار دیا، جبکہ کچھ نے ان کی بہادری کی تعریف کی۔ یہ مناظرہ فکری حلقوں میں ایک اہم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead