
سردیوں کا موسم آتے ہی الماریوں سے پرانے اونی سوئیٹر اور گرم کپڑے نکالے جاتے ہیں، مگر یہ گرم جرسیاں اکثر خارش، جلن اور جلدی دانوں کا باعث بن جاتی ہیں۔
ماہرینِ امراضِ جلد کے مطابق یہ مسئلہ صرف اون کی وجہ سے نہیں بلکہ کئی عوامل مل کر پیدا کرتے ہیں، خاص طور پر پرانے کپڑوں میں۔
اہم وجوہات:
- جلد کی خشکی: سردیوں میں ہوا خشک ہو جاتی ہے اور اندرونی ہیٹنگ نمی کم کر دیتی ہے۔ جلد پہلے سے حساس ہوتی ہے تو اونی ریشوں کی رگڑ سے شدید خارش ہوتی ہے۔
- اونی ریشوں کی ساخت: اون کے موٹے ریشے (خاص طور پر سستے یا پرانے کپڑوں میں) جلد کو چبھتے ہیں، جو خارش کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ الرجی نہیں بلکہ مکینیکل ایرریٹیشن ہے۔
- دھول کے ذرات (ڈسٹ مائٹس): گرمیوں میں الماری میں رکھے پرانے اونی کپڑوں میں ڈسٹ مائٹس جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ چھوٹے کیڑے جلد کی مردہ خلیوں پر پلتے ہیں اور ان کی فضلہ الرجی کا سبب بنتی ہے۔ پرانے کپڑے دھوئے بغیر پہننے سے یہ مسئلہ بڑھ جاتا ہے۔
- نیفتھلین بالز اور کیمیکلز: کیڑوں سے بچانے کے لیے رکھی جانے والی گولیاں جلد پر کیمیائی ردعمل پیدا کر سکتی ہیں۔
- نہ دھونے کی وجہ سے فنگی یا مولڈ: ذخیرہ شدہ کپڑوں میں نمی جمع ہونے سے فنگی بڑھ سکتی ہے، جو جلدی انفیکشن کا باعث بنتی ہے۔
ماہرین کے مطابق 10 سے 15 فیصد افراد کو اونی کپڑوں سے الرجی کا سامنا ہوتا ہے، مگر زیادہ تر کیسز میں یہ حقیقی الرجی نہیں بلکہ جلد کی حساسیت اور ماحولیاتی عوامل ہوتے ہیں۔
بچاؤ کے آسان طریقے:
- اونی کپڑے استعمال سے پہلے اچھی طرح دھوئیں اور دھوپ میں خشک کریں۔
- براہِ راست جلد پر نہ پہنیں، اندر کاٹن کا کپڑا استعمال کریں۔
- نہانے کے فوراً بعد موئسچرائزر لگائیں تاکہ جلد نرم رہے۔
اگر خارش شدید ہو یا دانے نکل آئیں تو ماہرِ جلد سے مشورہ کریں، کیونکہ یہ ایکزیما یا دیگر امراض کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ سردیوں میں جلد کی دیکھ بھال سے یہ خوبصورت موسم مزے کا بن سکتا ہے!
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
UrduLead UrduLead