
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سخت گیر امیگریشن پالیسی کو مزید توسیع دیتے ہوئے 20 اضافی ممالک کے شہریوں پر امریکا کے سفر پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ نئی پابندیاں یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔
نئی پالیسی کے تحت متاثرہ ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ، امریکی شہریوں کے خاندانی افراد اور افغان اسپیشل امیگرنٹ ویزا ہولڈرز بھی اس کی زد میں آئیں گے، جو ایک بڑی تبدیلی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مکمل پابندی کا شکار ہونے والے ممالک میں شام، جنوبی سوڈان، نائجر، مالی اور برکینا فاسو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، فلسطینی اتھارٹی کی جاری کردہ سفری دستاویزات رکھنے والے افراد کو بھی امریکا آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اسی پالیسی کا حصہ بنتے ہوئے، کئی ممالک پر جزوی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن میں انگولا، انٹیگوا اور باربوڈا، بنین، آئیوری کوسٹ، ڈومینیکا، گبون، گیمبیا، ملاوی، موریطانیہ، نائیجیریا، سینیگال، تنزانیہ، ٹونگا، زیمبیا اور زمبابوے شامل ہیں۔ ان ممالک کے شہریوں کو مخصوص کیٹیگریز میں سفر کی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل جون میں افغانستان سمیت 12 ممالک پر سفری پابندیاں لگائی تھیں۔ تازہ فیصلے کے بعد، پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک کی کل تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے، جو امریکا کی سیکیورٹی اور امیگریشن کنٹرول کو مزید سخت بنانے کی کوشش ہے۔
یہ اقدام عالمی سطح پر تنقید کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر افریقی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے، جہاں سے ہزاروں افراد تعلیم، کاروبار اور خاندانی وجوہات کی بنا پر امریکا آتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
UrduLead UrduLead