
کمپٹیشن کمیشن نے پنجاب کی دس شوگر ملوں کو کارٹل بنانے، گنے کی قیمت 400 روپے فی من فکس کرنے اور کرشنگ میں تاخیر کرنے کے الزام پر شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔
CCP کا کہنا ہے کہ یہ ملیں اجتماعی طور پر متفق ہو کر 10 نومبر کو Fatima Sugar Mills میں ایک اجلاس منعقد کر کے فیصلہ کیا کہ گنے کی کرشنگ 28 نومبر سے شروع کی جائے گی اور گنے کی قیمت فی من 400 روپے مقرر کی جائے گی۔
یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا جب پنجاب کے کین کمشنر نے 15 نومبر کو کرشنگ شروع کرنے کی ہدایت دی تھی، جو شوگر ملز نے نظر انداز کی۔
CCP کی طرف سے ملوں کو 14 دن کے اندر تحریری وضاحت طلب کی گئی ہے تاکہ یہ وضاحت کی جاسکے کہ انہیں ممنوعہ معاہدوں، مارکیٹ کو متاثر کرنے اور برائے ناجائز فائدہ قوانین کی خلاف ورزی کے تحت کیوں نہ قرار دیا جائے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کرشنگ میں تاخیر اور گنے کی قیمت ایکساں طے کرنے سے نہ صرف کسانوں کا استحصال ممکن ہوا بلکہ مستقبل میں چینی کی سپلائی متاثر ہو کر عوام کو مہنگی چینی خریدنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
CCP کے چیئرمین نے واضح کیا کہ کسی بھی تجارتی تنظیم یا ایسوسی ایشن کا پلیٹ فارم کارٹل سازی یا اجتماعی قیمتیں طے کرنے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے مل مالکان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
یہ کاروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پچھلے برسوں میں CCP نے مختلف شعبوں میں کارٹل سازی اور گمراہ کن مارکیٹنگ کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ 2024 میں صرف جرمانے کی مد میں تقریباً 275 ملین روپے کی مالی کارروائیاں کی گئیں۔
اگر ملیں وضاحت نہ پیش کر سکیں یا CCP کو یقین ہوا کہ یہ ملیں ممنوعہ معاہدوں کی مرتکب ہوئی ہیں، تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ اس کا مقصد نہ صرف کسانوں اور صارفین کا تحفظ ہے بلکہ مارکیٹ میں شفافیت اور منصفانہ مقابلہ بھی یقینی بنانا ہے۔
UrduLead UrduLead