
ڈاکٹر نبیہ علی خان، جو ماہرِ نفسیات اور سوشل میڈیا پر مؤثر آواز رکھنے والی شخصیت ہیں، نے انکشاف کیا ہے کہ شادی کے فوراً بعد شدید دباؤ اور تنقید کے باعث وہ ایک موقع پر حارث کھوکھرسے علیحدگی پر سنجیدگی سے غور کر رہی تھیں۔ یہ انکشاف انہوں نے حالیہ نشست میں معروف شاعر اور میزبان وصی شاہ سے گفتگو کے دوران کیا، جہاں وہ اپنی شادی کے بعد مسلسل جاری تنقید پر پہلی بار کھل کر بولیں۔
نبیہ علی خان اور حارث کھوکھر کا نکاح معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے اپنے گھر پر پڑھایا۔ نکاح کی جھلکیاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور جوڑے کو ابتدا میں بے پناہ توجہ ملی۔ مگر شادی کے دن ہی دلہن کے لباس اور زیورات کی قیمت سامنے آنے کے بعد جوڑا شدید تنقید کی زد میں آگیا، جس نے ان کی زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ ایک غیر متوقع بحران میں بدل دیا۔ نبیہ نے بتایا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ایک نجی تقریب ان کے لیے نفسیاتی آزمائش بن جائے گی۔
ڈاکٹر نبیہ نے گفتگو میں واضح کیا کہ شادی کے فوراً بعد انہیں بدترین ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق، وہ زندگی کے اس مرحلے کو پیار، خوشی اور سکون کا وقت سمجھ رہی تھیں، مگر سوشل میڈیا پر جاری تنقید اور ذاتی حملوں نے انہیں حد سے زیادہ متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ ان کی زندگی کا سب سے مشکل دور ثابت ہوا، کیونکہ وہ ایک عام دلہن کی طرح خوشی منانے کے قابل ہی نہ رہیں۔ شدید ذہنی دباؤ کے باعث انہوں نے ایک موقع پر طلاق جیسے فیصلے کے بارے میں بھی سوچا۔
نبیہ نے وصی شاہ کے سامنے آبدیدہ ہو کر بتایا کہ سوشل میڈیا کے اس طوفان نے انہیں اندر سے توڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف وہی شخص ہے جو اس درد کو صحیح معنوں میں سمجھ سکتی ہے۔ شادی جیسے خوبصورت لمحے کو ایسی صورت حال میں تبدیل کر دینا ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے ان کی ذاتی زندگی کو اس حد تک موضوعِ بحث بنا دیا کہ وہ خود کو دنیا کے سامنے بے نقاب اور کمزور محسوس کرنے لگیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ شادی کے بعد مسلسل انٹرویوز دینے اور ہر جگہ اپنی ذات کا دفاع کرنے کی مجبوری نے انہیں مزید تھکا دیا۔ نبیہ کے مطابق، لوگ ان کے بارے میں قیاس آرائیاں کرتے رہے، جس سے نہ صرف ان کی ذہنی صحت متاثر ہوئی بلکہ ان کے اور حارث کھوکھر کے رشتے میں بھی تناؤ پیدا ہوا۔ اس دباؤ نے انہیں اس حد تک پہنچا دیا کہ وہ رشتے کو نبھانے یا ختم کرنے کے درمیان الجھ گئیں۔

جوڑے کے مطابق، یہ تمام تنقید اس وقت سامنے آئی جب انہوں نے شادی سے متعلق چند تفصیلات خود بتا دیں، جسے غلط رنگ دیا گیا۔ نبیہ نے واضح کیا کہ ان کے نیت یا ارادے پر بات کرنے کے بجائے لوگوں نے ان کی نجی زندگی پر حملے کیے، جس کی وجہ سے انہیں شدید ذہنی صدمہ پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دن رات روتی رہتی تھیں اور یہ سوچتی تھیں کہ ان کی خوشیاں کیوں لوگوں کو کھٹک رہی ہیں۔
اس دوران حارث کھوکھر نے بھی اپنے انٹرویوز میں بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ کھڑے رہے، مگر سوشل میڈیا کی بے رحمی نے انہیں بھی حیران کر دیا۔ ان کے مطابق، وہ صرف ایک خوشگوار لمحے کو دنیا کے ساتھ بانٹنا چاہتے تھے، مگر یہ لمحہ الٹا ان کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوا۔ نبیہ نے کہا کہ حارث کھوکھر نے انہیں بار بار حوصلہ دیا، مگر دباؤ اس قدر شدید تھا کہ وہ خود کو تنہا محسوس کرنے لگیں۔
سوشل میڈیا پر شادی، فنکاروں، عوامی شخصیات اور متاثرہ افراد کے درمیان یہ بحث پھر سے اٹھ کھڑی ہوئی ہے کہ نجی تقریبات پر پبلک تبصرے اور ذاتی حملے کس حد تک اخلاقی اور انسانی طور پر درست ہیں۔ نبیہ کے اس انکشاف نے آن لائن نفسیاتی دباؤ پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس کے مطابق سوشل میڈیا پر منفی رویے کسی کی ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر نبیہ علی خان نے اپنے انٹرویو کے اختتام پر کہا کہ وہ اب اس مشکل دور سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اپنی شادی کو نبھانے کے لیے مضبوطی سے کھڑی ہیں، مگر وہ یہ بھی چاہتی ہیں کہ لوگ سوشل میڈیا پر دوسروں کے بارے میں محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں تاکہ کسی اور کے خوشی کے لمحے کو تکلیف میں نہ بدلا جائے۔
UrduLead UrduLead