
پاکستان نے راولپنڈی میں ٹرائی نییشن ٹی 20 سیریز کے چوتھے میچ میں زمبابوے کو 69 رنز سے ہرا کر ایونٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی، جبکہ ٹیم کے بیٹرز نے بھرپور کارکردگی دکھائی جس نے بڑے مجموعے کی بنیاد رکھی۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور مقررہ 20 اوورز میں 195 رنز بنائے۔ اوپنر صاحبزادہ فرحان نے تیز رفتار کھیل پیش کیا اور 41 گیندوں پر 63 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 4 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے اور وہ طاقتور اسٹروکس کے ساتھ آغاز کو مستحکم بناتے رہے۔ دوسری جانب بابر اعظم نے ایک بار پھر ذمہ داری سنبھالی اور 52 گیندوں پر 74 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو بڑے مجموعے کی طرف دھکیلا۔ انہوں نے 7 چوکے اور 2 چھکے لگائے اور دوسری وکٹ پر 103 رنز کی شراکت قائم کی جو پاکستان کی اننگ کی بنیاد بنی۔
درمیانی اوورز میں صائم ایوب 13 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ فہیم اشرف اور محمد نواز بالترتیب 3 اور 4 رنز تک محدود رہے۔ اختتامی اوورز میں فخر زمان نے جارحانہ انداز اپنایا اور صرف 10 گیندوں پر 27 رنز جوڑ کر مجموعہ 195 تک پہنچا دیا۔ انہوں نے آخری اوور میں براد ایونز کے خلاف دو چھکے اور ایک چوکا لگایا اور ناٹ آؤٹ رہے۔ کپتان سلمان علی آغا 1 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ زمبابوے کی جانب سے سکندر رضا نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ اینگاراوہ اور ایونز نے ایک ایک وکٹ لی۔
زمبابوے نے 196 رنز کے تعاقب کا آغاز کیا لیکن پاکستانی باؤلنگ نے ابتدا سے ہی حریف بیٹرز پر دباؤ برقرار رکھا۔ نسیم شاہ نے پہلے اوور میں وکٹ لے کر زمبابوے کو دھچکا دیا، جبکہ محمد وسیم نے جارحانہ لائن پر بالنگ کر کے ابتدائی نقصان میں حصہ ڈالا۔ زمبابوے کی ٹیم صرف 126 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور ان کی اننگ 19ویں اوور میں تمام ہوئی۔ سب سے نمایاں اننگ رائن برل نے کھیلی جنہوں نے 49 گیندوں پر 67 رنز بنائے اور گرنے والی وکٹوں کے باوجود مزاحمت دکھائی۔
پاکستان کی جانب سے عثمان طارق نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور 4 اوورز میں صرف 18 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ محمد نواز نے 2 وکٹیں لیں جبکہ نسیم شاہ، محمد وسیم اور فہیم اشرف نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ زمبابوے کی بیٹنگ لائن مسلسل دباؤ میں رہی اور تین بیٹرز صفر پر پویلین لوٹے، جس نے رن ریٹ بڑھانے کے امکانات کم کر دیے۔ سکندر رضا نے 23 رنز بنا کر مزاحمت کی مگر بڑے مجموعے کے سامنے یہ اسکور ناکافی ثابت ہوا۔
یہ سیریز فائنل میں پاکستان کی پیش قدمی کے لیے اہم تصور کی جا رہی ہے۔ مقامی حالات کے مطابق راولپنڈی کی پچ نے بیٹرز کو مدد دی لیکن پاکستان کی باؤلنگ نے توازن قائم نگاہ رکھا۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنی ٹی 20 کارکردگی میں مستقل مزاجی دکھائی ہے۔ آئی سی سی کے اعداد و شمار کے مطابق 2024–2025 کے دوران پاکستان نے درمیانی اوورز میں سب سے بہتر اکانومی ریٹ رکھنے والی ٹیموں میں جگہ بنائی، جس کا اثر اس میچ میں واضح نظر آیا۔ سلیکشن میں کی جانے والی تبدیلیوں کا فائدہ بھی مثبت انداز میں سامنے آیا جہاں عثمان طارق کی شاندار باؤلنگ میچ کے فیصلے میں کلیدی رہی۔
UrduLead UrduLead