اتوار , نومبر 30 2025

راشد لطیف کے متنازع بیانات، معافی اور پی سی بی کی وضاحت

جوئے کے اشتہارات پر بحث پھر سے شدت اختیار کر گئی

پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف کی معافی، سابق چیئرمین نجم سیٹھی کی تنقید اور موجودہ چیئرمین محسن نقوی کی وضاحت کے بعد پاکستانی کرکٹ میں جوئے اور بیٹنگ کمپنیوں کے اشتہارات کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

راشد لطیف نے سنیچر کے روز ایکس پر جاری بیان میں سروگیٹ بیٹنگ کمپنیوں کے اشتہارات اور محمد رضوان کی کپتانی سے متعلق اپنے بیانات پر معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ارادہ کھلاڑیوں، کرکٹ بورڈ کے حکام یا دیگر اسٹیک ہولڈرز پر الزام تراشی کا نہیں تھا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ محمد رضوان کی فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کو کپتانی سے ہٹانے کے معاملے سے جوڑنا ’’نامناسب اور بے بنیاد‘‘ تھا۔ ان کے مطابق یہ حوالہ غیر ضروری تھا اور انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا۔

تحقیقات کی خبریں اور سوشل میڈیا پر بحث

یہ معافی اس وقت سامنے آئی جب اطلاعات گردش کررہی تھیں کہ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (NCCIA) نے سابق کپتان کے متنازع بیانات کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر بھرپور بحث جاری ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ راشد لطیف پر دباؤ ڈالا گیا، جبکہ دیگر صارفین کا خیال ہے کہ تنقید حدود میں رہ کر ہونی چاہیے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’’دو سال سے وہ یہی باتیں کرتے آئے، اچانک معذرت کیسے آگئی؟‘‘ جبکہ ایک اور صارف کے مطابق ایف آئی اے کے نوٹس پر ’’شرم آنی چاہیے‘‘۔

دوسری جانب کئی صارفین نے کہا کہ بورڈ کے خلاف بار بار غیر مصدقہ الزامات پی سی بی کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

نجم سیٹھی اور محسن نقوی آمنے سامنے

سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے راشد لطیف کے خلاف کارروائی پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ بورڈ کو ’’جابرانہ ہتھکنڈوں‘‘ سے گریز کرنا چاہیے۔

اس پر پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سیٹھی کا بیان ’’غلط وقت پر اور حقائق کے منافی‘‘ ہے۔ محسن نقوی کے مطابق بورڈ نے کبھی ناقدین کو خاموش کرانے کی کوشش نہیں کی بلکہ صرف ’’جھوٹے اور ہتک آمیز الزامات‘‘ کے خلاف کارروائی کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ راشد لطیف کی معافی سے واضح ہوگیا کہ بورڈ کا موقف درست تھا، اور اب اس معاملے کو بند کیا جا رہا ہے۔

تاہم نجم سیٹھی نے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میری تشویش بے جا نہیں۔ پی سی بی کو ناقدین کے خلاف ایف آئی اے استعمال نہیں کرنی چاہیے۔‘‘

پس منظر

راشد لطیف طویل عرصے سے پی سی بی کے ناقد رہے ہیں اور سٹے بازی، کرکٹ انتظامی فیصلوں اور شفافیت سے متعلق معاملات پر کھل کر بات کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ اکتوبر میں انہوں نے یوٹیوب پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ محمد رضوان کو فلسطین کی حمایت کی وجہ سے کپتانی سے ہٹایا جارہا ہے، جس پر بورڈ نے شدید ردعمل دیا تھا۔

اب ان کی معافی، بورڈ کے ردعمل اور سیاست دانوں کی طرح ’’سافٹ ویئر اپ ڈیٹ‘‘ کی طعنہ بازی نے اس بحث کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

فیڈرل بورڈ نے SSC Part-I اور Part-II 2025 کے نتائج کا اعلان کیا

وفاقی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) نے 28 نومبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے