
ماہرینِ غذائیت کے مطابق پستہ روزمرہ خوراک میں شامل کرنے سے دل، وزن اور خون کی صحت میں اہم فوائد دیکھے گئے ہیں۔ نئی غذائی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ خشک میوہ انسانی جسم کو قدرتی پروٹین، صحت مند چکنائی اور فائبر فراہم کرتا ہے، جو مجموعی صحت کو بہتر بناتا ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق پستہ خون میں کولیسٹرول کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے اور شریانوں میں سوزش کم کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے اندر موجود اَن سیچوریٹڈ فیٹس دل کی بیماریوں کے خطرات کم کرتے ہیں، جبکہ باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر کو بھی مستحکم رکھ سکتا ہے۔
امریکی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی ایک رپورٹ کے مطابق خشک میوہ جات، خاص طور پر پستہ، وزن میں اعتدال برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پستے میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو فعال رکھتا ہے اور دیر تک سیر ہونے کا احساس برقرار رکھتا ہے جس سے بے وقت کھانے کی عادت کم ہوتی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ایک علیحدہ تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ 30 گرام پستہ استعمال کرنے والے افراد میں بلڈ شوگر کی سطح بہتر دیکھی گئی، جس سے ذیابیطس کے خطرات میں کمی واقع ہوئی۔ محققین کے مطابق پستے میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو فری ریڈیکلز سے بچاتے ہیں، جو بڑھاپے کی رفتار کم کرنے اور جلد کی بہتری میں مدد دیتے ہیں۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پستہ پروٹین کا اہم ذریعہ ہے اور ورزش کرنے والے افراد میں توانائی کی سطح برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں وٹامن بی 6، کاپر اور پوٹاشیئم جیسے اجزاء موجود ہیں جو اعصابی نظام اور دماغی کارکردگی کو تقویت دیتے ہیں۔
عالمی غذائی اداروں کا کہنا ہے کہ خشک میوہ جات کی کھپت گزشتہ برسوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے، کیونکہ صارفین صحت کے حوالے سے زیادہ آگاہ ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی پستے کی مانگ موسمِ سرما میں نمایاں ہوتی ہے، جبکہ بڑے شہروں میں اس کی درآمد میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ پستے کا استعمال اعتدال سے کیا جائے کیونکہ زیادہ مقدار میں استعمال کیلوریز میں اضافہ کر سکتا ہے۔ تاہم مناسب مقدار روز مرہ صحت کے لیے فائدہ مند ہے اور اسے متبادل صحت مند اسنیک کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے۔
غذائیت کے ماہرین کے مطابق پستہ قدرتی توانائی کا محفوظ ذریعہ ہے اور بہتر غذائی عادات اختیار کرنے والے افراد کے لیے موزوں انتخاب ہے۔ مزید کہا گیا کہ خشک میوہ جات کی عالمی مارکیٹ میں پستے کی طلب آئندہ برسوں میں مزید بڑھنے کی توقع ہے کیونکہ صارفین صحت مند غذاؤں کی طرف تیزی سے مائل ہو رہے ہیں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
UrduLead UrduLead