
عالمی کرپٹو مارکیٹ میں جمعہ کی صبح شدید مندی دیکھنے میں آئی جب بِٹ کوائن اچانک 32 سے 35 فیصد تک گر گیا، جس کے نتیجے میں لیوریجڈ پوزیشنز میں 1.91 ارب ڈالر کی بڑے پیمانے پر لِکوئڈیشن ہوئی۔ زیادہ تر نقصان اُن سرمایہ کاروں کو ہوا جنہوں نے قیمت بڑھنے کی امید پر لانگ بیٹس لگا رکھی تھیں۔
ایتھیریم بھی شدید دباؤ میں آیا اور 10 فیصد سے زیادہ گر گیا، جس سے مزید 403 ملین ڈالر کی لِکوئڈیشن سامنے آئی۔ مجموعی کرپٹو مارکیٹ کی مالیت دوبارہ 3 ٹریلین ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے آگئی، جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی۔
فنڈ اسٹریٹ کے ماہر ٹام لی کے مطابق اکتوبر میں ہونے والے فلیش کرَیش کے بعد مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کم ہو گئی تھی، جس نے خودکار انداز میں “آٹو ڈی لیوریجنگ” کے سلسلے کو تیز کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب لیکویڈیٹی کم ہو تو قیمتوں میں معمولی تبدیلی بھی بڑے حجم کے زبردستی بیچاؤ کا باعث بنتی ہے، جس سے پورے بازار پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار مائلز ڈوئچر نے کہا ہے کہ بِٹ کوائن کے لیے 32 سے 35 فیصد تک کی درستگی (پُل بیک) نئی بات نہیں، بلکہ اس کی تاریخی اتار چڑھاؤ کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق موجودہ مندی اس کرنسی کی “ہسٹری کل سائنچر وولیٹیلٹی” سے میل کھاتی ہے اور اس کے طویل مدتی رجحانات پر فیصلہ کن اثر نہیں ڈالتی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹریڈرز کے ردعمل میں واضح تقسیم نظر آئی۔ کچھ صارفین نے اس گراوٹ کو مارکیٹ ہیرا پھیری سے جوڑا، جبکہ دوسروں نے سرمایہ کاروں کو پرسکون رہنے اور اپنے اثاثے بیچنے کے بجائے ہولڈ کرنے کا مشورہ دیا۔ کئی ٹریڈرز نے نشاندہی کی کہ افراتفری کے دوران بلیک راک اور مائیکرو اسٹریٹیجی جیسے بڑے ادارے اضافی بِٹ کوائن خرید رہے ہیں، جسے وہ مارکیٹ کے طویل مدتی اعتماد کا اشارہ قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کرپٹو مارکیٹ کی غیر معمولی حساسیت اور سرمایہ کاروں کی لیوریج پر بڑھتی ہوئی انحصار کو اُجاگر کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آئندہ ہفتوں میں لیکویڈیٹی بحال ہوئی تو مارکیٹ بتدریج مستحکم ہو سکتی ہے، تاہم قلیل مدتی اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
UrduLead UrduLead