
سینیٹ کمیٹی خزانہ میں شوگر، سیمنٹ اور دیگر بڑے پیداواری یونٹس پر اے آئی بیسڈ نگرانی کے نظام پر شدید بحث ہوئی، جبکہ اسلامی بینکنگ میں زائد منافع کے معاملے پر بینکوں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ایف بی آر نے 17 بڑے پیداواری شعبوں میں اے آئی بیسڈ ویڈیو اینالیٹکس سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کا مقصد سیلز کی درست نگرانی اور ٹیکس چوری کی روک تھام ہے۔ یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں زیر بحث آیا، جہاں فیکٹریوں میں کیمروں کی تنصیب پر مختلف صنعتوں کی جانب سے شدید اعتراضات کیے گئے۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ پہلے تجویز کردہ 16 کیمروں کی تعداد کم کر کے چار کر دی گئی ہے تاکہ فیکٹریوں کے اہم حصوں—بیلٹ، پیکنگ ایریاز اور داخلی و خارجی راستوں—کی موثر نگرانی کی جاسکے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ شوگر سیکٹر سے رواں سال 76 ارب روپے اور سیمنٹ سیکٹر سے 102 ارب روپے اضافی ٹیکس وصولی متوقع ہے، جس کے لیے نگرانی کا نیا نظام اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ایک چینی سرمایہ کار کمپنی نے تجویز کی شدید مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ سعودی عرب اور تھائی لینڈ سمیت کہیں بھی ایسی نگرانی نہیں کی جاتی۔ کمپنی نے مؤقف اپنایا کہ کیمروں کی تنصیب سے ان کے ٹریڈ سیکرٹس کو خطرہ ہوگا اور یہ معاملہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فیکٹریوں پر کیمرے نصب کرنا لازم ہے، ورنہ کاروبار بند کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہمیں کمپنیوں کی اپنی کاؤنٹنگ پر اعتبار نہیں، نئے اے آئی سسٹم پر ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق تمام شوگر ملز پر ویڈیو کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، جن میں وفاقی وزرا کی ملیں بھی شامل ہیں اور وہاں سے کوئی اعتراض نہیں آیا۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ نیا نظام ہر ٹائل، ہر پیکٹ اور ہر بیرل کی آؤٹ پُٹ کو خودکار طریقے سے شمار کرے گا، جس سے پیداوار اور سیلز میں فرق ختم ہوگا۔ پاکستان میں سیلز ٹیکس چوری کا بڑا حصہ پروڈکشن میں غلط رپورٹنگ سے جڑا ہوا ہے، جس پر ایف بی آر گزشتہ دو برسوں سے ڈیجیٹل مانیٹرنگ بڑھا رہا ہے۔ اس سے قبل تمباکو سیکٹر میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نے ٹیکس وصولیوں میں نمایاں بہتری دکھائی تھی۔
اجلاس میں اسلامی بینکنگ کے نام پر زائد منافع وصول کرنے کے معاملے پر بھی سخت بحث ہوئی۔ کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اسلامی بینکنگ کے لبادے میں سود سے زیادہ منافع وصول کیا جا رہا ہے، جس پر بینکوں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے پوچھا کہ اسٹیٹ بینک ایسے معاملات کی اجازت کیسے دے سکتا ہے۔ وزیرِ مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے تسلیم کیا کہ معاملہ ان کے علم میں نہیں تھا اور اسٹیٹ بینک سے رابطہ کر کے وضاحت لی جائے گی۔
اجلاس میں آڈیٹر جنرل کی جانب سے مالیاتی رپورٹ میں ٹائپو غلطی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جہاں ملین کو غلطی سے بلین لکھ دیا گیا، جس سے مجموعی رقم 375 ارب دکھائی گئی۔ ڈپٹی آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ ایگزیکٹو سمری میں غلطی ہوئی ہے اور انضباطی کارروائی جاری ہے۔ وزیر مملکت خزانہ نے کہا کہ اصل مجموعی رقم 9 کھرب بنتی ہے اور اعداد و شمار کی الگ سے جانچ پڑتال بھی ممکن ہے، جسے کمیٹی نے منظور کر لیا۔
اجلاس کے اختتام پر سینیٹر کامران مرتضیٰ کے زیر التوا معاملے کو آئندہ اجلاس کے لیے برقرار رکھنے کی منظوری دی گئی، جبکہ سینیٹر ڈاکٹر زرقا نے ڈریس کوڈ سے متعلق سوالات اٹھائے۔ سینیٹر فاروق نائیک نے کہا کہ عبایا پہننے پر مجبور کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی کو داڑھی رکھنے پر مجبور کرنا ہو۔
ایف بی آر کا نیا نگرانی نظام ٹیکس اصلاحات کی وسیع حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جو بڑے پیداواری شعبوں، خصوصاً شوگر اور سیمنٹ جیسے ہائی ریونیو سیکٹرز کی بہتر دستاویز بندی کو ہدف بناتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ پالیسی آنے والے مالی سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں بہتری لانے کے لیے اہم ثابت ہوگی۔
UrduLead UrduLead