اتوار , نومبر 30 2025

پاکستانی ٹیم پر دباؤ، ایشیا کپ فائنل کی دوڑ بچانے کا نازک موقع

گرین شرٹس کے لیے ایشیا کپ میں فائنل کی امیدیں منگل کو سری لنکا سے جیت پر منحصر ہیں

ایشیا کپ 2025 کے سپر 4 مرحلے میں پاکستانی کرکٹ ٹیم آج ابوظبی میں سری لنکا کے خلاف میدان میں اترے گی، جہاں شکست کی صورت میں فائنل تک رسائی کا امکان ختم ہو جائے گا۔ بھارت کے ہاتھوں مسلسل دوسری شکست نے گرین شرٹس کو پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر لا کھڑا کیا ہے، اور اب فائنل کی دوڑ میں شامل رہنے کے لیے نہ صرف کامیابی ضروری ہے بلکہ نیٹ رن ریٹ کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔

پاکستان نے اب تک ٹورنامنٹ میں چار میچز کھیلے ہیں، جن میں دو فتوحات عمان اور متحدہ عرب امارات جیسی کمزور ٹیموں کے خلاف جبکہ دونوں ناکامیاں روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں ہوئیں۔ ان میچز میں کارکردگی کا تسلسل برقرار نہ رکھ پانا، اور موزوں کمبی نیشن تلاش کرنے میں ناکامی پاکستانی ٹیم کی سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی۔ یہی تلاش آج کے اہم ترین مقابلے میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔

اوپنر صائم ایوب، جو ابتدائی تین میچز میں بغیر کھاتہ کھولے آؤٹ ہوئے، اسپن بولنگ میں اپنی افادیت کی بنیاد پر ممکنہ طور پر پلیئنگ الیون کا حصہ بنے رہیں گے۔ اتوار کے بھارت کے خلاف میچ میں اُن کی بیٹنگ بہتر رہی مگر بولنگ میں وہ کوئی وکٹ نہ لے سکے۔ دوسری جانب صاحبزادہ فرحان نے اسی میچ میں ففٹی اسکور کر کے اعتماد بحال کیا اور ایک بڑی اننگز کھیلنے کے لیے پرجوش ہیں۔

فخر زمان، جنہیں گزشتہ میچ میں متنازع امپائرنگ فیصلے کی وجہ سے آؤٹ قرار دیا گیا، آج کے میچ میں اس غصے کو جارحانہ انداز میں بیٹنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے۔ فاسٹ بولرز کی کارکردگی پر بھی گہری نظر ہو گی جنہیں بھارت کے خلاف میچ میں غیر مؤثر قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹیم ابوظبی پہنچ چکی ہے اور وہاں آرام کو ترجیح دی گئی تاکہ کھلاڑی تازہ دم ہو کر میدان میں اتریں۔

کپتان سلمان علی آغا نے بھارت کے خلاف ٹیم کی بہتر بیٹنگ کو سراہتے ہوئے پاور پلے میں ناقص بولنگ پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم اگلے میچز میں زیادہ متوازن اور مؤثر کارکردگی دکھانے کے لیے کوشاں ہے۔ سلمان کی قیادت اس اہم موڑ پر ٹیم کے حوصلے بلند رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

دوسری جانب سری لنکن ٹیم اگرچہ گروپ مرحلے میں ناقابل شکست رہی، مگر سپر 4 کے پہلے مقابلے میں اسے بنگلہ دیش سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب وہ بھی فائنل تک رسائی کی امید برقرار رکھنے کے لیے ہر حال میں فتح کی متقاضی ہے۔ سری لنکا کی بیٹنگ لائن نسبتاً مستحکم سمجھی جاتی ہے، جبکہ اس کا ورائٹی سے بھرپور اسپن بولنگ اٹیک پاکستانی بیٹنگ کو مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔

شیخ زید اسٹیڈیم کی پچ سست اور اسپنرز کے لیے سازگار مانی جاتی ہے، جس کا فائدہ سری لنکن ٹیم کو زیادہ ملنے کا امکان ہے۔ ایسے میں پاکستانی ٹیم کو اسپن کے خلاف منصوبہ بندی کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔

تاریخی طور پر پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ایشیا کپ میں سخت مقابلے دیکھنے میں آئے ہیں۔ 2022 کے فائنل میں سری لنکا نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا، جو آج کے میچ میں نفسیاتی برتری کا سبب بن سکتا ہے۔ البتہ موجودہ حالات میں دونوں ٹیموں پر برابر کا دباؤ ہے اور معمولی غلطی بھی کسی کی فائنل کی راہ بند کر سکتی ہے۔

ایشیا کپ کے سپر 4 مرحلے میں صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے۔ بھارت کی پوزیشن مستحکم نظر آتی ہے جبکہ باقی تین ٹیمیں — پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش — فائنل کے دوسرے ٹکٹ کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی آج کی جیت، اور وہ بھی بہتر رن ریٹ کے ساتھ، اسے فیصلہ کن مقابلے تک لے جا سکتی ہے۔

ابوظبی میں ہونے والے اس میچ کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق شام 6 بجے ہو گا، اور یہ مقابلہ نہ صرف گرین شرٹس کے لیے بلکہ ایشیا کپ کی مجموعی ترتیب کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

فیڈرل بورڈ نے SSC Part-I اور Part-II 2025 کے نتائج کا اعلان کیا

وفاقی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) نے 28 نومبر …