
ٹماٹر اور مرغی کی قیمتوں میں بڑی کمی
پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہفتہ وار حساس قیمت اشاریہ (SPI) کے مطابق، 27 اگست 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی میں محض 0.05 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ معمولی اضافہ اس وقت سامنے آیا جب ٹماٹر، مرغی اور پیاز جیسی روزمرہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، تاہم سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح اب بھی 9.04 فیصد پر برقرار ہے۔
SPI، جو ملک بھر کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں میں 51 ضروری اشیاء کی قیمتوں کی نگرانی کرتا ہے، کے اعداد و شمار کے مطابق زیرِ جائزہ 51 اشیاء میں سے 20 اشیاء (39.22 فیصد) کی قیمتوں میں اضافہ، 11 اشیاء (21.56 فیصد) کی قیمتوں میں کمی، جبکہ 20 اشیاء (39.22 فیصد) کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
اعداد و شمار کے پیچھے کیا عوامل کارفرما رہے
ہفتہ وار معمولی اضافے کی بنیادی وجہ توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ رہا۔ ایل پی جی کی قیمت میں سب سے زیادہ 3.46 فیصد اضافہ ہوا، اس کے بعد ڈیزل (2.44 فیصد)، پہلی سہ ماہی کے بجلی کے نرخ (2.06 فیصد) اور پٹرول (1.71 فیصد) شامل ہیں۔ اشیائے خوردونوش میں چنے کی دال (0.88 فیصد)، آٹا (0.39 فیصد) اور انڈوں (0.34 فیصد) کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
دوسری جانب سبزیوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی نے مجموعی اضافے کو کسی حد تک متوازن رکھا۔ ٹماٹر کی قیمت میں ہفتہ وار بنیاد پر 18.65 فیصد کمی آئی، مرغی کی قیمت 4.41 فیصد کم ہوئی، پیاز 2.87 فیصد اور کیلے 2.80 فیصد سستے ہوئے۔ آلو، لہسن اور چاول کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔
سالانہ بنیادوں پر موازنہ عام پاکستانیوں کو درپیش مہنگائی کی شدت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پیاز کی قیمت میں 125.86 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا، جبکہ ایل پی جی (55.66 فیصد)، آٹا (45.28 فیصد)، ٹماٹر (36.69 فیصد)، ڈیزل (36.33 فیصد) اور پٹرول (29.84 فیصد) میں بھی سالانہ بنیاد پر بھاری اضافہ درج کیا گیا۔ کچھ ریلیف آلو (سالانہ 31.33 فیصد کمی)، مرغی (23.87 فیصد کمی)، چینی (19.33 فیصد کمی) اور انڈوں (17.97 فیصد کمی) کی صورت میں ملا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مہنگائی کا بوجھ تمام طبقات پر یکساں نہیں پڑا۔ آمدنی کے لحاظ سے تقسیم کے مطابق، سب سے کم آمدنی والے طبقے (Q1، ماہانہ آمدنی 17,732 روپے تک) کی قیمتوں میں دراصل ہفتہ وار بنیاد پر 0.17 فیصد کمی آئی، جبکہ سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے (Q5، 44,175 روپے سے زائد) میں 0.13 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا — جو ظاہر کرتا ہے کہ اس ہفتے کی ایندھن اور توانائی سے متعلق مہنگائی نے خوشحال گھرانوں کے اخراجات کو زیادہ متاثر کیا، جبکہ اشیائے خوردونوش کی سستائی نے کم آمدنی والے طبقے کو زیادہ ریلیف دیا۔
سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل
حالیہ مہینوں میں پاکستانی سوشل میڈیا پر گھریلو بجٹ ایک مسلسل زیرِ بحث موضوع رہا ہے، جہاں صارفین اکثر گروسری کی رسیدیں اور بجلی کے بل شیئر کرتے ہوئے سرکاری مہنگائی کے اعداد و شمار اور حقیقی زندگی کے تجربے کے درمیان فرق کو اجاگر کرتے ہیں۔ ہفتہ وار SPI رپورٹس پر عام طور پر دو طرح کے ردعمل سامنے آتے ہیں: سبزیوں اور مرغی کی سستائی پر اطمینان، جو روزمرہ کے کچن بجٹ میں واضح طور پر محسوس ہوتی ہے، اور ایندھن و بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے پر مایوسی، جو بالواسطہ طور پر تقریباً ہر دوسرے خرچے کو متاثر کرتی ہے۔ اس ہفتے کی رپورٹ، جس میں دونوں رجحانات بیک وقت دکھائی دیتے ہیں، آن لائن ملے جلے ردعمل کو جنم دے سکتی ہے، خصوصاً ٹماٹر کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران تقریباً 19 فیصد کمی اور ساتھ ہی ایل پی جی و ڈیزل میں تازہ اضافے کے تناظر میں۔
ماہرینِ معیشت کا تجزیہ
پاکستان کی مہنگائی کے رجحانات پر نظر رکھنے والے ماہرینِ معیشت عمومی طور پر یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ ہفتہ وار SPI میں تقریباً برابری کی سطح دو متضاد قوتوں کو چھپاتی ہے: ٹماٹر اور پیاز جیسی سبزیوں کی فصل کے موسمی چکر کے باعث رسد میں بہتری، اور دوسری جانب ایندھن کی قیمتوں میں مستقل نوعیت کے اضافے جو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی اور سہ ماہی بجلی کے نرخوں پر نظرثانی سے جڑے ہیں۔ ماہرین عموماً خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ مجموعی ہفتہ وار مہنگائی قابو میں دکھائی دیتی ہے، تاہم 9.04 فیصد کی سالانہ شرح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قیمتوں کا دباؤ تاریخی معیار کے مقابلے میں اب بھی بلند ہے، اور ایل پی جی، ڈیزل، پٹرول اور بجلی جیسی توانائی سے متعلق اشیاء اب بھی مہنگائی کی بنیادی وجہ بنی ہوئی ہیں، چاہے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مختصر مدتی ریلیف کیوں نہ ملے۔ آمدنی کے مختلف طبقات میں مختلف رجحانات ظاہر کرنے والے اعداد و شمار بھی اس بحث کو ہوا دے سکتے ہیں کہ مالیاتی اور توانائی کی پالیسیوں کے فیصلے آمدنی کے مختلف درجات پر کس طرح غیر متوازن اثرات مرتب کرتے ہیں۔
UrduLead UrduLead