
“ہم بہترین دوست بن چکے ہیں”
پاکستان کے سابق کپتان اور “سلطانِ سوئنگ” وسیم اکرم اور ان کی آسٹریلوی نژاد اہلیہ شنیرا اکرم نے اپنی شادی کے 14 سال مکمل ہونے پر اپنے کراچی کے گھر میں خصوصی گفتگو کی، جس میں انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی، بچوں کی پرورش، وسیم کی کرکٹ وراثت اور معاشرتی مسائل پر کھل کر بات کی۔
ایک غیر روایتی محبت کی کہانی
شنیرا نے بتایا کہ جب انہوں نے وسیم اکرم سے شادی کی تو ان کی عمر کا فرق، مختلف مذاہب و ثقافتوں سے تعلق، اور وسیم کی پہلی شادی سے دو بیٹوں کی موجودگی جیسے موضوعات میڈیا میں زیرِ بحث آئے تھے۔ ان کے بقول یہ ان کی والدہ کی حوصلہ افزائی اور ان کے اپنے یقین کا نتیجہ تھا کہ محبت کو موقع دینا چاہیے۔ شنیرا نے یہ بھی بتایا کہ ابتدا میں وہ وسیم کی شہرت سے واقف نہیں تھیں اور پاکستان آنے کے بعد ہی انہیں اندازہ ہوا کہ ان کے شوہر کتنی بڑی شخصیت ہیں۔

دونوں نے بتایا کہ ابتدائی برسوں میں شنیرا وسیم کے ساتھ سفر کرتی رہیں، تاہم بیٹی آئلہ کی تعلیم کے آغاز کے بعد یہ سلسلہ محدود ہو گیا۔ وسیم نے انکشاف کیا کہ 2016 تک وہ سال کے چھ سے سات ماہ بھارت میں ESPN Star Sports کے ساتھ کمنٹری اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی کوچنگ کے سلسلے میں گزارتے رہے۔
شنیرا نے وسیم کے پہلے شوہری سے دو بیٹوں، اکبر اور تیمور کی پرورش کے تجربے کو بھی یاد کیا اور کہا کہ ماں بننے کا سفر آسان نہیں تھا مگر انہوں نے اسے دل سے قبول کیا۔
کرکٹ کا ماضی اور موجودہ صورتحال
گفتگو کا رخ پاکستانی کرکٹ کی موجودہ کمزور کارکردگی کی جانب بھی مڑا۔ وسیم اکرم نے کہا کہ نوجوان نسل میں کرکٹ سے دلچسپی میں کمی کی بڑی وجہ ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی ہے، جبکہ شنیرا کا خیال ہے کہ پاکستانی عوام آج بھی کرکٹ سے محبت کرتے ہیں مگر توقعات بلند کرنے سے گریزاں ہیں۔
وسیم نے اپنی سوانح عمری “Sultan: A Memoir” کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے میچ فکسنگ الزامات، پہلی اہلیہ کی وفات اور منشیات کی لت جیسے حساس موضوعات پر کھل کر لکھا۔ انہوں نے بتایا کہ کتاب لکھنا ایک مشکل مگر ضروری فیصلہ تھا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
حال ہی میں ایک AI سے بنائی گئی جعلی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وسیم اکرم کے انتقال کی جھوٹی خبر دی گئی۔ اس پر شنیرا نے وسیم کی جم میں ورزش کرتے ہوئے ویڈیو شیئر کی جس پر صارفین نے بھرپور رد عمل دیا۔ وسیم نے اس واقعے کو مزاحیہ انداز میں لیا اور کہا کہ لوگوں کی تخلیقی صلاحیت منفی مقصد کے لیے ضائع ہوئی۔ سوشل میڈیا صارفین نے جوڑے کے حاضر جوابی انداز کو سراہا، جبکہ کچھ نے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔
سماجی مبصرین کے مطابق وسیم اور شنیرا کی جوڑی پاکستان میں بین الثقافتی شادیوں کے حوالے سے ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے شوگر (ذیابیطس) سے متعلق آگاہی کے حوالے سے وسیم کے بیانات کو اہم قرار دیا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان دنیا میں ذیابیطس کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ سماجی کارکنوں نے شنیرا کی جانب سے سیٹ بیلٹ، صفائی اور صحت مند طرزِ زندگی سے متعلق آگاہی مہمات کو بھی سراہا۔
UrduLead UrduLead