
ادرک کی چائے کو صدیوں سے گھریلو ٹوٹکوں میں شامل کیا جاتا رہا ہے، اور آج بھی بدہضمی، پیٹ کے اپھارے اور کھانے کے بعد ہونے والے بھاری پن کی شکایت میں بہت سے لوگ اسے ترجیح دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ادرک نظامِ ہاضمہ کو متحرک کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اسے وزن کم کرنے کا مستقل علاج یا چربی گھلانے والا مشروب سمجھنا سائنسی طور پر درست نہیں۔
ماہرین کی رائے
ماہرِ غذائیت ڈاکٹر ایملی چن کے مطابق، عام صارفین کے لیے ادرک کی چائے کا وزن پر اثر معمولی ہے اور خوراک میں تبدیلی کے بغیر یہ کوئی نمایاں فرق پیدا نہیں کرتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ادرک میں موجود جنجرول جیسے مرکبات میٹابولزم کو عارضی طور پر پانچ سے دس فیصد تک بڑھا سکتے ہیں، تاہم یہ اضافہ روزانہ محض چند اضافی کیلوریز جلانے کے برابر ہوتا ہے — یعنی ایک کیلے سے بھی کم۔ ان کے بقول اصل وزن کم کرنے کا انحصار مستقل کیلوری خسارے پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی ایک مشروب پر۔
اسی طرح ایک اور طبی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ادرک چربی کے براہ راست خاتمے پر معمولی اثر رکھتی ہے، البتہ یہ وزن کے انتظام میں ایک ہلکا معاون کردار ادا کر سکتی ہے۔ ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کسی مخصوص جگہ سے چربی کم کرنے کا تصور (اسپاٹ ریڈکشن) سائنسی طور پر ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ چربی کا خاتمہ پورے جسم میں مجموعی کیلوری خسارے اور جینیاتی عوامل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر رجحان
طبی محققین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ سوشل میڈیا کے فروغ کے ساتھ وزن کم کرنے کے کئی متبادل طریقے سائنسی شواہد کے بغیر ہی مقبول ہو گئے ہیں، اور ادرک کی چائے بھی انہی میں شامل ہے۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر اکثر اسے “فیٹ برننگ ڈرنک” یا “ڈیٹوکس واٹر” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس سے عام صارفین میں یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ محض ادرک کی چائے پینے سے وزن خودبخود کم ہو جائے گا — جبکہ ماہرین اس دعوے کو حقیقت سے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا قرار دیتے ہیں۔
فوائد اور احتیاط
طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ادرک کی چائے بدہضمی، گیس اور کھانے کے بعد ہونے والی بھاری پن کی کیفیت میں سکون پہنچا سکتی ہے، کیونکہ یہ نظامِ انہضام کے خامروں کو متحرک کرنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد، حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین اور گال بلیڈر کے مسائل کے شکار افراد کو زیادہ مقدار میں ادرک کے استعمال سے پہلے معالج سے مشورہ کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔
ماہرین کا مجموعی مشورہ یہی ہے کہ ادرک کی چائے کو متوازن غذا اور روزمرہ ورزش کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ ایک معاون عادت کے طور پر دیکھا جائے۔
UrduLead UrduLead