جمعرات , اگست 20 2026

ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان کو بھارت سے شکست

پاکستان ٹیم ناک آؤٹ مرحلے کی دوڑ سے باہر

نیدرلینڈز اور بیلجیم میں جاری ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026ء میں پاکستان ٹیم کو تین میچوں میں دوسری شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد قومی ٹیم اگلے مرحلے میں جگہ بنانے میں ناکام ہو گئی۔

گروپ ڈی میں انگلینڈ سے 1-4 کی شکست اور ویلز کے خلاف 3-3 سے میچ برابر رہنے کے بعد روایتی حریف بھارت کے خلاف فتح ہی پاکستان کو ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچا سکتی تھی، مگر ایمسٹلوین کے ویگنر ہاکی اسٹیڈیم میں کپتان ابوبکر کی قیادت میں کھیلنے والی قومی ٹیم میچ کے آغاز سے ہی دباؤ میں نظر آئی۔

بھارت کی جارحانہ کارکردگی، 3-5 سے کامیابی

ہرمن پریت سنگھ کی قیادت میں بھارتی ٹیم — جسے دوسرے میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں 2-4 سے شکست ہوئی تھی — نے پاکستان کے خلاف انتہائی جارحانہ کھیل پیش کیا اور 3-5 سے فتح کے ساتھ ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ پہلے کوارٹر میں کپتان ہرمن پریت نے پنالٹی کارنر پر گول کیا جس کے بعد ابھیشک نے دوسرا گول کر کے بھارتی برتری کو دوگنا کر دیا۔ دوسرے کوارٹر میں ہرمن پریت نے پنالٹی کارنر کے ری باؤنڈ پر تیسرا گول بنایا، جس کے چند منٹ بعد پاکستان کے حنان شاہد نے گول کر کے اسکور 1-3 کیا، تاہم فوراً بعد ابھیشک نے بھارت کے لیے چوتھا گول داغ دیا۔ پاکستان کی جانب سے سفیان نے بھی پنالٹی کارنر پر گول کیا اور دوسرے کوارٹر کے اختتام پر بھارت 2-4 سے آگے رہا۔ تیسرے کوارٹر میں پنالٹی اسٹروک پر بھارت نے برتری 2-5 تک بڑھائی، جبکہ چوتھے اور آخری کوارٹر میں حنان شاہد نے اپنا دوسرا اور پاکستان کا تیسرا گول اسکور کیا، مگر یہ کوشش شکست ٹالنے کے لیے ناکافی رہی۔

آٹھ سال بعد ورلڈ کپ کھیلنے والی ٹیم کے لیے مایوس کن مہم

واضح رہے کہ پاکستان قومی ہاکی ٹیم آٹھ سال کے وقفے کے بعد ورلڈ کپ میں شریک ہوئی تھی، اور توقعات کے برعکس ٹیم اپنی مہم کا آغاز ہی انگلینڈ کے ہاتھوں شکست سے کرنے پر مجبور ہوئی۔ افتتاحی میچ میں پاکستانی ٹیم کو ایک انتظامی سبکی کا بھی سامنا کرنا پڑا، جب پنالٹی کارنر کے دوران استعمال ہونے والا حفاظتی سامان ڈریسنگ روم میں ہی بھول جانے پر ریفری نے کپتان کو گرین کارڈ دکھا کر دو منٹ کے لیے میدان بدر کر دیا تھا۔

سوشل میڈیا پر شدید تنقید

اس واقعے پر سابق کپتان سلمان اکبر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ٹیم کی تیاری، نظم و ضبط اور انتظامات پر سوالات اٹھائے اور اسے پاکستان ہاکی کا ایک اور ناپسندیدہ ریکارڈ قرار دیا۔ بھارت کے ہاتھوں تازہ شکست کے بعد بھی سوشل میڈیا پر شائقین کی جانب سے ٹیم کی کارکردگی اور مینجمنٹ پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ کئی صارفین نے قومی ہاکی فیڈریشن سے سوال کیا کہ ملکی ہاکی کے زوال کا اصل ذمہ دار کون ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کا مؤقف

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کی جانب سے قبل ازیں کہا جا چکا ہے کہ حال ہی میں قائم کی گئی گورننگ کمیٹی ہاکی کی سمت درست کرنے کے لیے ایک عبوری روڈ میپ ہے۔ کپتان ابوبکر نے انگلینڈ سے شکست کے بعد اعتراف کیا تھا کہ ٹیم کی کارکردگی میں کچھ خامیاں سامنے آئی ہیں جنہیں اگلے میچوں میں دور کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم بھارت کے خلاف شکست کے بعد ٹیم کا ورلڈ کپ میں سفر ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچے بغیر ہی اختتام پذیر ہو گیا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ادرک کی چائے: وزن کم کرنے کا “جادوئی نسخہ” نہیں

ادرک کی چائے کو صدیوں سے گھریلو ٹوٹکوں میں شامل کیا جاتا رہا ہے، اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے