
گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیموں کی شرائط مزید سخت
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بدھ کے روز قومی اسمبلی میں تصدیق کی ہے کہ حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے “پرسنل بیگیج اسکیم” کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، جبکہ گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیموں کے تحت گاڑیاں منگوانے کی سہولت برقرار رکھتے ہوئے اس کے کمرشل غلط استعمال کو روکنے کے لیے شرائط مزید سخت کر دی گئی ہیں۔
وزیر تجارت یہ جواب ایوان میں سوالات کے وقفے کے دوران رکن اسمبلی ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ کے اس سوال کے جواب میں دے رہے تھے کہ کیا حکومت نے پرسنل بیگیج اسکیم کے تجارتی مقاصد کے لیے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں کیا تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔
نئی شرائط کی تفصیلات
وزارتِ تجارت کی تحریری جواب کے مطابق نظرثانی شدہ پالیسی کے تحت اب گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیموں کے ذریعے درآمد کی جانے والی گاڑیوں کو کمرشل درآمد پر لاگو ہونے والے کم از کم حفاظتی، ماحولیاتی اور ریگولیٹری معیارات پر پورا اترنا ہو گا۔ ان اسکیموں کے تحت دوبارہ گاڑی درآمد کرنے کا وقفہ دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دیا گیا ہے، جبکہ ان اسکیموں کے تحت درآمد شدہ گاڑی ایک سال تک منتقل (ٹرانسفر) نہیں کی جا سکے گی۔ بیرونِ ملک کم از کم قیام کی شرط بھی بڑھا کر تین سال اور کم از کم 850 دن مجموعی قیام مقرر کر دی گئی ہے، جو تمام اسکیموں پر لاگو ہو گی۔ اسی طرح یہ شرط کہ گاڑی اسی ملک سے درآمد کی جائے جہاں بھیجنے والا مقیم ہے، اب صرف ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم پر لاگو ہو گی۔
وزارت کے مطابق یہ تبدیلیاں سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت سمیت متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کی گئی ہیں، اور اس پالیسی میں ترمیم 15 جنوری 2026 کو ایس آر او 61(I)/2026 کے ذریعے کی گئی۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ ان اسکیموں کا مقصد اصل میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ذاتی استعمال کے لیے گاڑیاں منگوانے کی سہولت دینا تھا، مگر خصوصاً پرسنل بیگیج اسکیم کے تجارتی مقاصد کے لیے غلط استعمال کی نشاندہی ہوئی تھی۔ وزارت نے واضح کیا کہ نظرثانی شدہ پالیسی کے مجموعی درآمدات پر اثرات کا فی الحال جائزہ لینا قبل از وقت ہو گا، تاہم پرسنل بیگیج اسکیم کے خاتمے اور دیگر اسکیموں پر سخت شرائط کے باعث درآمدات میں کمی متوقع ہے۔
پس منظر: کب سے زیرِ غور تھی یہ تبدیلی
یہ فیصلہ اچانک نہیں آیا بلکہ کئی مہینوں کی مشاورت کا نتیجہ ہے۔ دسمبر 2025 میں ہی وزارتِ تجارت نے ایک سمری تیار کی تھی جس میں پرسنل بیگیج اسکیم کے خاتمے اور دیگر دونوں اسکیموں کو سخت کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جس پر اقتصادی رابطہ کمیٹی کو حتمی فیصلہ کرنا تھا۔ اس سے پہلے اکتوبر 2025 میں یہ بھی رپورٹ ہوا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں گورننس اور بدعنوانی سے متعلق تشخیصاتی رپورٹ کی روشنی میں گاڑیوں کی درآمد میں جاری رعایتی سہولیات ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، کیونکہ ان اسکیموں کے غلط استعمال سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑ رہا تھا۔
ڈیوٹی فری امپورٹ کی تردید
اسی نشست میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے رکن اسمبلی معین عامر پیرزادہ کے سوال کے تحریری جواب میں واضح کیا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی کے بغیر گاڑیوں یا دیگر گاڑیوں کی درآمد کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔
ماہرین اور صنعت کا ردعمل
آٹو انڈسٹری سے وابستہ ذرائع اور تجزیہ کاروں کے مطابق بیگیج اور گفٹ اسکیموں پر پابندیوں سے مقامی اسمبلی صنعت کو کسی حد تک ریلیف ملنے کی توقع ہے، کیونکہ ان اسکیموں کے تحت آنے والی سستی درآمدی گاڑیاں مقامی اسمبل شدہ گاڑیوں کے مقابلے میں رکاوٹ بنتی رہی ہیں۔ تاہم بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی سخت شرائط سے حقیقی سمندر پار پاکستانیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جو محض ذاتی استعمال کے لیے وطن واپسی پر اپنی گاڑی لانا چاہتے ہیں۔
UrduLead UrduLead