
سیکٹر آئی ٹین تھری میں غیر قانونی کال سینٹر اور غیراخلاقی مواد کی تیاری بے نقاب
ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اسلام آباد میں ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث مزید 275 غیرملکیوں کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق تمام ملزمان کو سیکٹر آئی ٹین تھری میں چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا، جہاں وہ سیاحتی اور بزنس ویزوں پر پاکستان آ کر غیرقانونی کال سینٹر چلا رہے تھے۔
غیراخلاقی مواد کی تیاری کا انکشاف
ایف آئی اے کے مطابق کال سینٹر کی انتظامیہ محض آن لائن فراڈ ہی نہیں بلکہ غیراخلاقی مواد کی تیاری میں بھی ملوث پائی گئی، جس کے لیے غیرملکی خواتین اور مرد باقاعدہ بھرتی کیے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق گرفتار افراد میں چین سمیت دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔ ملزمان کے خلاف ایف آئی اے میں فارن ایکٹ جبکہ این سی سی آئی اے میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
76 غیرملکیوں کو فوری ملک بدر کرنے کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق گرفتار 275 غیرملکیوں میں سے 76 کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور ان کے ایگزٹ پرمٹ کی تیاری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی ماندہ ملزمان کے خلاف تفتیش جاری ہے۔
پہلے سے جاری بڑے کریک ڈاؤن کا تسلسل
یہ کارروائی اسلام آباد میں غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف جاری وسیع تر کریک ڈاؤن کی ایک کڑی ہے۔ چند روز قبل ہی گلبرگ گرینز کے اسپارکو پلازہ سے 406 غیرملکیوں کی گرفتاری عمل میں آئی تھی، جن میں 46 خواتین بھی شامل تھیں، جبکہ اس سے قبل مزید 284 غیرملکیوں کے ویزے منسوخ کر کے انہیں ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کارروائیوں کا سراغ ابتدائی طور پر ایک شراب برآمدگی کیس کی تفتیش کے دوران ملا تھا، جس کے بعد سلسلہ وار چھاپے مارے گئے۔ گرفتار افراد کی بھاری تعداد کے باعث این سی سی آئی اے کو رکھنے کی جگہ اور عملے کی کمی کا سامنا بھی رہا، جس پر ضلعی انتظامیہ سے درخواست کر کے نجی عمارتوں کو عارضی سب جیل قرار دلوایا گیا اور بعد ازاں ملزمان کو مرحلہ وار راولپنڈی کی اڈیالہ جیل اور ضلعی جیل اٹک منتقل کیا جاتا رہا۔
سرکاری اہلکاروں کی سہولت کاری کا انکشاف بھی ساتھ ساتھ جاری
اسی نوعیت کی تحقیقات کے دوران ایف آئی اے پہلے ہی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اور اسلام آباد پولیس کے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) کے اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت بے نقاب کر چکی ہے، جس میں رشوت کے عوض غیرملکیوں کو امیگریشن کلیئرنس اور نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا رہی تھی۔ اس سلسلے میں ایک اہلکار کی گاڑی سے 2 کروڑ روپے نقدی بھی برآمد کی جا چکی ہے۔ حکام کے مطابق نئی گرفتاریوں کے تناظر میں بھی مقامی سہولت کاروں اور ہینڈلرز کے کردار کی تحقیقات جاری رکھی جائیں گی۔
سوشل میڈیا پر شہریوں کی حمایت، سوالات بھی برقرار
سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے یکے بعد دیگرے ہونے والی ان کارروائیوں کا خیرمقدم کیا اور اسے ملکی سلامتی اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کے لیے ضروری قدم قرار دیا۔ تاہم کئی صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اتنے بڑے پیمانے پر غیرقانونی نیٹ ورکس، بشمول غیراخلاقی مواد کی تیاری، اسلام آباد جیسے حساس شہر میں طویل عرصے تک کیسے فعال رہے، اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کی نگرانی پر بھی تنقید کی گئی۔
UrduLead UrduLead