Related Articles

سینیٹ کمیٹی میں نیپرا نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ساڑھے پانچ برس کے دوران آئی پی پیز کو 7,275 ارب روپے کی کیپیسٹی ادائیگیاں کی گئیں، جبکہ حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی بھی پاور پلانٹ بجلی پیدا کیے بغیر ادائیگیاں وصول نہیں کر رہا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا ہے کہ گزشتہ ساڑھے پانچ سال کے دوران آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں مجموعی طور پر 7,275 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔
نیپرا حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران آئی پی پیز کو 1,149 ارب روپے انرجی چارجز اور 1,800 ارب روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
حکام نے مزید بتایا کہ رواں مالی سال میں اپریل تک آئی پی پیز کو 1,023 ارب روپے انرجی چارجز اور 1,430 ارب روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے جا چکے ہیں۔
اجلاس کے دوران سینیٹر ایمل ولی خان نے نیپرا کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹر لوڈشیڈنگ کے خاتمے، گردشی قرضوں میں کمی اور عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کی اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے بھی نیپرا کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ادارے کی ناقص انتظامی صلاحیت کے باعث بجلی کا نظام تباہ حالی کا شکار ہے اور ہر سال تقریباً 1,800 ارب روپے آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں۔
جواب میں نیپرا حکام نے واضح کیا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پاور پلانٹس بجلی پیدا کیے بغیر ادائیگیاں وصول کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی بھی پاور پلانٹ موجود نہیں جو بجلی بنائے بغیر رقم لے رہا ہو، جبکہ کیپیسٹی ادائیگیاں بجلی کی دستیاب صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے طے شدہ معاہدوں کے تحت کی جاتی ہیں۔
UrduLead UrduLead