Related Articles

حکومتِ پاکستان نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے پہلی فنانشل کلوزنگ کامیابی سے مکمل کر لی، جس کے بعد قومی ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی قیادت میں سرمایہ کار کنسورشیم کے حوالے کر دیا گیا۔
نجکاری کمیشن کے مطابق شیئر پرچیز اینڈ سبسکرپشن ایگریمنٹ (SPSA) کے تحت تمام پیشگی شرائط پوری ہونے کے بعد انتظامی اختیار باضابطہ طور پر منتقل کر دیا گیا، جو حکومت کے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 23 دسمبر 2025 کو ہونے والی شفاف اور مسابقتی بولی کے نتیجے میں سرمایہ کار کنسورشیم نے مجموعی طور پر 180 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا، جس میں 55 ارب روپے حکومت پاکستان کو جبکہ 125 ارب روپے پی آئی اے میں نئی سرمایہ کاری کی صورت میں شامل ہیں۔
پہلی فنانشل کلوزنگ کے تحت کنسورشیم نے حکومت پاکستان کو 10 ارب روپے کی ابتدائی ادائیگی کر دی ہے، جبکہ قومی ایئرلائن میں 80 ارب روپے کی نئی ایکویٹی بھی شامل کر دی گئی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے پی آئی اے کی مالی حالت مضبوط بنانے، فضائی بیڑے کی توسیع و جدید کاری، نئے روٹس کے آغاز، آپریشنل کارکردگی میں بہتری اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
نجکاری کمیشن کے مطابق 29 جنوری 2026 کو معاہدے پر دستخط کے بعد وزارت دفاع، وزارت خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں نے ملکی و بین الاقوامی ریگولیٹری منظوریوں، ٹیکس اصلاحات، ہوائی جہازوں کی فنانسنگ، ہوابازی پالیسی، گورننس اور دیگر پیچیدہ شرائط کو مقررہ مدت میں مکمل کیا، جبکہ اس دوران ایئرلائن کی پروازیں، ملازمین کے حقوق اور مسافروں کی خدمات بلا تعطل جاری رہیں۔
معاہدے کے مطابق دوسری فنانشل کلوزنگ آئندہ 12 ماہ کے اندر مکمل ہوگی، جس کے تحت کنسورشیم مزید 45 ارب روپے پی آئی اے میں سرمایہ کاری کرے گا۔ اسی عرصے میں کنسورشیم کو اضافی 45 ارب روپے ادا کرکے حکومت کے پاس موجود باقی 25 فیصد شیئرز خریدنے کا بھی اختیار حاصل ہوگا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے اس موقع پر کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی جانب سے شفاف، منصفانہ اور پیشہ ورانہ انداز میں پیچیدہ نجکاری کے عمل کو کامیابی سے مکمل کرنے کی صلاحیت کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف اقتصادی اصلاحات بلکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا بھی باعث بنے گی۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ نجکاری کے بعد بھی ملازمین، مسافروں اور صارفین کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا، جبکہ تمام ہوابازی قوانین اور ریگولیٹری نگرانی بدستور نافذ العمل رہے گی۔
نجکاری کمیشن نے اس کامیابی پر وفاقی کابینہ، نجکاری کمیشن بورڈ، وزارت دفاع، وزارت خزانہ، دیگر سرکاری اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور مالیاتی مشیر ای وائے کنسلٹنگ دبئی سمیت تمام متعلقہ فریقین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی پہلی فنانشل کلوزنگ پاکستان کے نجکاری پروگرام کا ایک تاریخی سنگ میل ہے۔
UrduLead UrduLead