
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے وفاقی حکومت کی کفایت شعاری اور رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت انسانی وسائل کی تنظیمِ نو کے لیے بڑی تعداد میں خالی، غیر فعال اور زائد اسامیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سی ڈی اے کے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ 8 جون 2026 کو ہونے والے سی ڈی اے بورڈ کے 17ویں اجلاس میں کیا گیا۔ فیصلے کا مقصد ادارے کے انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانا اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا ہے۔

نوٹیفکیشن کے تحت مختلف گریڈز کی تقریباً تین ہزار خالی اور غیر فعال اسامیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ ختم کی جانے والی اسامیوں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر (ای اینڈ ایم) کی 10، اسسٹنٹ ڈائریکٹر (سول) کی 40، بازار انسپکٹر کی 2، ایڈمن آفیسر کی 8، اسٹینوگرافر کی 14 اور بلڈنگ انسپکٹر کی 11 اسامیاں شامل ہیں۔
اسی طرح جونیئر اسسٹنٹ کی 90، جونیئر ریسرچ اسسٹنٹ کی 31، جونیئر ٹیکنیشن کی 39، پٹواری کی 8، سیکیورٹی گارڈ کی 172 اور ڈرائیور کی 161 اسامیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
نچلے درجے کی اسامیوں میں سب سے زیادہ خاتمہ خاکروب، کلینر اور سویپر کی 641، ہیلپر کی 316، او جی ایم/مالی کی 400 اور نائب قاصد کی 130 اسامیوں کا کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مستری، پلمبر، الیکٹریشن، لیب اسسٹنٹ، مکینک، چوکیدار اور دیگر تکنیکی و معاون عملے کی متعدد اسامیاں بھی ختم کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ تمام اسامیاں براہِ راست بھرتی کے کوٹے سے ختم کی گئی ہیں، جبکہ ترقیاتی کوٹے کے تحت موجود اسامیوں کی تعداد کو منجمد کر دیا گیا ہے۔
سی ڈی اے انتظامیہ نے متعلقہ قواعد و ضوابط میں ضروری ترامیم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ اس فیصلے کو باضابطہ طور پر سی ڈی اے ایمپلائز (سروس) ریگولیشنز 1992 کا حصہ بنایا جا سکے۔
یہ اقدام وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری اداروں میں اخراجات کم کرنے، غیر ضروری آسامیوں کے خاتمے اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جاری رائٹ سائزنگ مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead