بدھ , مئی 20 2026

PSO چیئرمین کی مدتِ ملازمت میں توسیع غیر یقینی

پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے چیئرمین آصف بیگ محمد کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے امکانات کمزور ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے اسلام آباد میں مسلسل اہم ملاقاتیں اور رابطے کر رہے ہیں تاکہ اپنے عہدے میں توسیع حاصل کر سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف بیگ محمد وفاقی دارالحکومت میں مختلف حکومتی شخصیات اور متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں، تاہم پٹرولیم ڈویژن اور حکومتی حلقوں میں اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ موجودہ حکومت چیئرمین پی ایس او کے عہدے پر نئی تقرری پر غور کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق حتمی فیصلہ جلد متوقع ہے۔

آصف بیگ محمد نے 29 مئی 2023 کو پاکستان اسٹیٹ آئل کے بورڈ آف مینجمنٹ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کی تقرری اس وقت کے وفاقی وزیرِ مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک کی حمایت سے عمل میں آئی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس تقرری میں سیاسی اور کاروباری روابط نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

کارپوریٹ شعبے میں آصف بیگ محمد کا شمار معروف کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ بیگ محمد گروپ آف کمپنیز کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں جبکہ اے بی ایم انویسٹمنٹ نامی نجی سرمایہ کاری فرم کے بھی سربراہ ہیں، جس کے مفادات ٹیلی کام، ٹیکنالوجی اور تعمیراتی شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

اس سے قبل وہ کوکا کولا سدرن پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے بورڈز میں بطور ڈائریکٹر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

تاہم سرکاری توانائی شعبے کے بعض حلقے ان کے دورِ چیئرمین شپ کو ملا جلا قرار دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ایس او کو گزشتہ دو برسوں کے دوران گردشی قرضے، لیکویڈیٹی دباؤ اور درآمدی ادائیگیوں جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ مالی سال 2025 کے دوران عالمی تیل قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں کمی نے بھی کمپنی کی مالی پوزیشن پر دباؤ بڑھایا۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت سرکاری کمپنیوں میں کارکردگی اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے نئی انتظامی تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے۔ وزارتِ خزانہ اور پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے سرکاری اداروں میں سیاسی تقرریوں کے بجائے پروفیشنل مینجمنٹ لانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ایس او بورڈ کی آئندہ تشکیل اور چیئرمین کی تقرری کا معاملہ کابینہ کی متعلقہ کمیٹیوں میں بھی زیر غور آ سکتا ہے۔ بعض حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور آئی ایم ایف پروگرام کے تناظر میں حکومت اب سرکاری اداروں میں زیادہ سخت احتساب اور شفافیت کی پالیسی اپنانا چاہتی ہے۔

پاکستان اسٹیٹ آئل ملک کی سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی ہے، جو قومی ایندھن سپلائی میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ کمپنی کی انتظامی تبدیلی کو توانائی سیکٹر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حکومت سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو اور مالی اصلاحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی کی لہر

جنوبی و وسطی حصے زیادہ متاثر ملک کے بیشتر علاقوں میں آئندہ دنوں کے دوران …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے