پولیس اہلکار پر الزام، تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ

اسلام آباد کے علاقے ایف-10 مرکز میں ایک ٹرانس جینڈر خاتون پر مبینہ پولیس تشدد کے واقعے نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے، جہاں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
متاثرہ خاتون رابعہ کے مطابق واقعہ رات تقریباً ڈھائی بجے پیش آیا جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھا رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شالیمار تھانے سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور بغیر کسی وجہ کے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
رابعہ نے ایک سب انسپکٹر عمران کو نامزد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے انہیں جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
سینئر صحافی Azaz Syed نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے Syed Ali Nasir Rizvi سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کو مثال بنایا جائے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے پولیس ٹریننگ میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی سے متعلق آگاہی شامل کرنے کی بھی تجویز دی۔
Dear Syed Ali Nasir Rizvi ,
— Azaz Syed (@AzazSyed) April 26, 2026
IG Islamabad , Police,
Hope you are doing well. Just saw this tweet and thought to write you.
Transgender people are among the most marginalized groups in Pakistani society, yet the abuse of a member of this community by a federal police officer… https://t.co/yNXXBsvxpS
یہ واقعہ ایک بار پھر پاکستان میں ٹرانس جینڈر افراد کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ اگرچہ Transgender Persons (Protection of Rights) Act 2018 اور Torture and Custodial Death (Prevention and Punishment) Act 2022 جیسے قوانین موجود ہیں، مگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان پر مکمل عملدرآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق ٹرانس جینڈر افراد کو پولیس کے ساتھ تعامل کے دوران ہراسانی، بلاجواز گرفتاری اور تشدد جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے، جس پر سماجی کارکنان بارہا آواز اٹھا چکے ہیں۔
تاحال اسلام آباد پولیس کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم سوشل میڈیا پر آئی جی پولیس اور متعلقہ حکام کو ٹیگ کر کے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دینا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
یہ معاملہ تاحال زیر غور ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں حکام کی جانب سے ردعمل متوقع ہے، جبکہ عوامی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
UrduLead UrduLead