پیر , مارچ 30 2026

آئی ایم ایف شرائط پر بجٹ اصلاحات کا فیصلہ

حکومت کا مالی نظم و ضبط اور شفافیت بڑھانے کا اعلان

وفاقی حکومت نے International Monetary Fund کی شرائط کے تحت آئندہ مالی سال 2027-2026 کے بجٹ نظام میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد مالی نظم و ضبط بہتر بنانا اور اخراجات پر سخت کنٹرول قائم کرنا ہے۔

وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق بجٹ تجاویز پر کام جاری ہے اور اب پارلیمانی منظوری کے بغیر اضافی گرانٹس کے اجرا پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کو مالی بے ضابطگیوں پر قابو پانے اور غیر ضروری اخراجات محدود کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام نے بتایا کہ وزارت خزانہ میں ٹیکس پالیسی آفس کو فعال کر دیا گیا ہے، جو بجٹ سازی کے عمل کو زیادہ مؤثر اور مستحکم بنانے میں مدد دے گا۔ اس دفتر کے قیام کا مقصد بار بار مالی سال کے دوران بجٹ میں تبدیلیوں کو روکنا اور ٹیکس پالیسی میں تسلسل برقرار رکھنا ہے۔

حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بجٹ سازی کے عمل کو مزید شفاف بنایا جائے گا اور حکومتی اخراجات اور آمدن کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کی جائے گی۔ یہ اقدامات پاکستان کے جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس میں مالی خسارہ کم کرنا اور محصولات بڑھانا اہم اہداف ہیں۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں ہنگامی فنڈ بھی شامل رکھا جائے گا۔ رواں مالی سال میں اس مد میں 300 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جو غیر متوقع اخراجات سے نمٹنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس فنڈ کے استعمال کو بھی زیادہ شفاف اور قواعد کے مطابق بنایا جائے گا۔

پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں سے مالی دباؤ کا شکار ہے، جہاں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 6 سے 7 فیصد کے درمیان رہا ہے، جبکہ State Bank of Pakistan اور عالمی مالیاتی ادارے مالی نظم و ضبط پر زور دیتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بار بار ضمنی گرانٹس اور بجٹ میں ردوبدل مالی پالیسی کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق متعلقہ دفاتر کو بجٹ اصلاحات پر عملدرآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور نئے اصول متعارف کرائے جائیں گے تاکہ اخراجات پر مکمل کنٹرول یقینی بنایا جا سکے۔ نئی حکمت عملی میں سرمایہ کاروں اور عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

حکام نے تسلیم کیا کہ رواں مالی سال کے دوران مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرنا پڑی۔ اس کے برعکس آئندہ سال ترقیاتی منصوبوں کو مالی سال کے درمیان کٹوتیوں سے بچانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ جاری منصوبے متاثر نہ ہوں۔

آئی ایم ایف کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ بجٹ تیاریوں اور مجوزہ اصلاحات کا جائزہ لیا جا سکے۔ حکومت نے ادارے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مالی فیصلوں میں تاخیر کم کی جائے گی اور بجٹ پر عملدرآمد کو زیادہ مؤثر بنایا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اصلاحات مؤثر طریقے سے نافذ ہوئیں تو پاکستان کی مالیاتی ساکھ بہتر ہو سکتی ہے، جس سے بیرونی سرمایہ کاری اور قرض پروگرامز میں آسانی پیدا ہوگی۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت کتنی مستقل مزاجی سے ان پالیسیوں پر عملدرآمد کرتی ہے، خاص طور پر International Monetary Fund پروگرام کے تناظر میں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

PSL11: کراچی کنگز سرفہرست، آرام کا دن

پی ایس ایل 2026 میں کراچی کنگز ناقابل شکست رہتے ہوئے پوائنٹس ٹیبل پر پہلے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے