
حکومت پاکستان نے بھارت سے تعلق رکھنے والی خاتون سربجیت کور کی ملک بدری کا فیصلہ روک دیا ہے۔
سربجیت کور نے اسلام قبول کر کے اپنا نام نور فاطمہ رکھ لیا تھا اور پاکستانی شہری ناصر حسین سے شادی کی تھی۔ اب انہیں دارالامان (ویمن شیلٹر ہوم) سے رہا کر کے شیخوپورہ میں اپنے شوہر کے گھر پہنچا دیا گیا ہے۔
متروکہ وقف املاک کے حکام نے وزارت خارجہ کے مؤقف کی روشنی میں نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے سیاسی بنیادوں پر ان کی ڈی پورٹیشن روکنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے نتیجے میں نور فاطمہ کو گھر جانے کی اجازت مل گئی اور وہ جمعرات کی صبح اپنے شوہر ناصر حسین کے ہمراہ شیخوپورہ پہنچ گئیں۔
اپنے وکیل احمد حسن پاشا کے چیمبر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نور فاطمہ نے کہا: “میں بہت خوش ہوں، ہاتھوں پر مہندی سجائے ہوئے ہوں۔ ہم آٹھ سال سے محبت کر رہے تھے، مجھے یقین تھا کہ ایک دن ضرور ملیں گے۔ بوڑھی بھی ہو جاتی تو بھی پاکستان ضرور آتی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے فیصلے پر مطمئن ہیں اور باقی زندگی پاکستان میں ہنسی خوشی گزارنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے پاکستانی اداروں کے اچھے سلوک کا شکریہ ادا کیا اور کوئی شکوہ نہیں کیا۔
ناصر حسین نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ شادی سے بہت خوش ہیں اور پاکستانی اداروں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔
واضح رہے کہ سربجیت کور بھارتی پنجاب کے ضلع کپور تھلہ کی رہائشی ہیں۔ وہ نومبر 2025 میں گرو نانک دیو جی کی 556 ویں جنم سالگرہ کی تقریبات کے لیے سکھ یاتریوں کے جتھے کے ساتھ پاکستان آئی تھیں۔ ان کا ویزہ 13 نومبر 2025 کو ختم ہو گیا تھا، مگر وہ بھارت واپس نہیں گئیں۔
پاکستان قیام کے دوران انہوں نے اسلام قبول کیا، ناصر حسین سے نکاح کیا اور نام نور فاطمہ رکھ لیا۔ دونوں کے درمیان 2016 سے سوشل میڈیا پر رابطہ تھا۔
4 جنوری 2026 کو ننکانہ صاحب کے قریب پہرے والی گاؤں سے پولیس نے دونوں کو گرفتار کر لیا تھا اور ابتدائی طور پر سربجیت کور کو بھارت ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، مگر قانونی اور دستاویزی مسائل کی وجہ سے یہ عمل روک دیا گیا۔
UrduLead UrduLead