
ملک میں قلیل مدتی مہنگائی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے کیونکہ انڈوں اور سبزیوں سمیت کئی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق 12 فروری 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں ہفتہ وار بنیاد پر 0.59 فیصد کمی ہوئی۔ ایس پی آئی ملک کے 17 بڑے شہروں کی 50 مارکیٹوں میں 51 بنیادی اشیاء کی قیمتوں کی نگرانی کرتا ہے اور قلیل مدتی مہنگائی کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ کمی انڈوں کی قیمت میں ریکارڈ کی گئی جو 17.61 فیصد کم ہوئی۔ ٹماٹر کی قیمت میں 12.02 فیصد، مرغی میں 6.34 فیصد، پیاز میں 2.73 فیصد اور آلو میں 2.49 فیصد کمی ہوئی۔
اسی طرح نمک پاؤڈر (1.69 فیصد)، ایل پی جی (1.57 فیصد)، گندم کا آٹا (1.31 فیصد) اور چینی (1.12 فیصد) کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی، جس سے عام صارفین کو کسی حد تک ریلیف ملا۔
دوسری جانب چند اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔ کیلے 7.62 فیصد مہنگے ہوئے جبکہ لہسن کی قیمت میں 4.35 فیصد اضافہ ہوا۔ دال ماش 2.69 فیصد، مرچ پاؤڈر 1.68 فیصد، مٹن 0.80 فیصد اور بیف 0.37 فیصد مہنگا ہوا۔ سرسوں کے تیل، سبزی گھی، سگریٹ، شرٹنگ، جارجٹ اور لان پرنٹڈ کپڑے کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق زیر نگرانی 51 اشیاء میں سے 15 اشیاء (29.41 فیصد) کی قیمتوں میں اضافہ، 15 اشیاء (29.41 فیصد) میں کمی جبکہ 21 اشیاء (41.18 فیصد) کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
سالانہ بنیاد پر حساس قیمتوں کے اشاریے میں 4.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ 73.36 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گندم کا آٹا 33.82 فیصد اور پہلی سہ ماہی کے گیس چارجز 29.85 فیصد بڑھے۔ اسی طرح مرچ پاؤڈر، بیف، انڈے، کیلے، لکڑی، ایل پی جی، خشک دودھ، شرٹنگ اور گُڑ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
اس کے برعکس بعض اشیاء کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر نمایاں کمی بھی دیکھنے میں آئی، جن میں آلو (44.68 فیصد کمی)، لہسن (30.78 فیصد)، چنا دال (23.81 فیصد)، پیاز (22.04 فیصد)، مرغی (20.13 فیصد)، چائے (لیپٹن)، نمک پاؤڈر، مسور دال اور پیٹرول شامل ہیں۔
مہنگائی میں یہ ہفتہ وار کمی حالیہ اتار چڑھاؤ کے بعد صارفین کے لیے کچھ حد تک ریلیف کا باعث بنی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس ہر ہفتے ایس پی آئی جاری کرتا ہے تاکہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں فوری تبدیلیوں کی نگرانی کی جا سکے اور پالیسی سازوں کو بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں۔
UrduLead UrduLead