منگل , فروری 10 2026

اسمارٹ واچ کے ہیلتھ فیچرز پر ماہرینِ کا انتباہ

مکمل تشخیص کا متبادل نہیں


جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں اسمارٹ واچز تیزی سے روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں، تاہم طبی ماہرین نے ان میں موجود ہیلتھ فیچرز کے استعمال پر احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ واچز میں بلڈ پریشر اور دیگر صحت سے متعلق علامات ظاہر کرنے والے فیچرز کو کسی صورت باقاعدہ طبی معائنہ یا ڈاکٹر کی تشخیص کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

طبی ماہرین کے مطابق اسمارٹ واچز مختلف سینسرز کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں، جن کی درستگی کئی بیرونی عوامل سے متاثر ہو سکتی ہے، جن میں جسمانی حرکت، گھڑی کا درست فِٹ نہ ہونا اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔ اس وجہ سے بعض اوقات نتائج حقیقت کے برعکس بھی ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اگر اسمارٹ واچ بلڈ پریشر یا دل کی دھڑکن میں کسی غیر معمولی تبدیلی کی نشاندہی کرے تو صرف گھڑی کے ڈیٹا پر انحصار کرنے کے بجائے مستند طبی آلات کے ذریعے باقاعدہ ٹیسٹ کروانا اور ڈاکٹر سے فوری رجوع کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسمارٹ واچز میں موجود ہیلتھ فیچرز بنیادی طور پر صحت کی عمومی نگرانی اور آگاہی کے لیے مفید ہیں، تاہم یہ کسی بیماری کی حتمی تشخیص یا علاج کے لیے قابلِ اعتماد ذریعہ نہیں بن سکتے۔

طبی ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر ایک سنجیدہ طبی مسئلہ ہے جس کے درست علاج کے لیے کلینیکل ٹیسٹنگ، باقاعدہ میڈیکل فالو اپ اور پیشہ ورانہ نگرانی ناگزیر ہے۔ عوام کو چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ ضرور اٹھائیں، لیکن اپنی صحت کے معاملے میں مستند طبی مشورے کو ترجیح دیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بلوچستان میں میٹرک سالانہ امتحانات 2026 کا آغاز

نقل کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے