دلائی لامہ کی تردید، برطانیہ میں سیاسی بحران گہرا

امریکی ارب پتی اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے جڑے اسکینڈل نے ایک بار پھر عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ ایپسٹین کے ساتھ کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ میں ملوث قرار دی جانے والی گیسلین میکسویل نے امریکی کانگریس کے اراکین کو بتایا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں مکمل اور تفصیلی بیان دینے کے لیے تیار ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ انہیں صدارتی معافی دے دیں۔
گیسلین میکسویل کے وکیل نے ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کو دیے گئے بیان میں کہا کہ اگر صدر ٹرمپ کی جانب سے معافی یا رعایت دی جاتی ہے تو میکسویل مکمل سچائی کے ساتھ تعاون کریں گی۔ وکیل کے مطابق میکسویل یہ بھی دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ صدر ٹرمپ اور سابق صدر بل کلنٹن دونوں کو ایپسٹین سے متعلق کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے بری الذمہ ثابت کر سکتی ہیں، تاہم اس کے لیے معافی ناگزیر ہے۔
کانگریس کے ڈیموکریٹ اراکین نے اس اقدام کو صدر ٹرمپ سے معافی حاصل کرنے کی منظم کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میکسویل خاموشی کے ساتھ اپنے مفادات کے تحفظ کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے تاحال معافی دینے یا انکار سے متعلق کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ گیسلین میکسویل کو 2021 میں جیفری ایپسٹین کے ساتھ مل کر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور اسمگلنگ کے جرم میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، اور وہ اس وقت ٹیکساس کی ایک وفاقی جیل میں قید ہیں۔
دوسری جانب، ایپسٹین فائلز میں دلائی لامہ کا نام سامنے آنے کے بعد پیدا ہونے والے تنازع پر ان کے دفتر نے سخت تردید جاری کر دی ہے۔ دلائی لامہ کے دفتر کے مطابق ان کی کبھی جیفری ایپسٹین سے ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی ایسے رابطے کی اجازت دی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ فائلز میں نام کا ذکر محض ایک ای میل یا حوالہ ہے، جو کسی ذاتی تعلق یا ملاقات کی عکاسی نہیں کرتا، اور اسے گمراہ کن پروپیگنڈہ قرار دیا گیا ہے۔
ادھر برطانیہ میں ایپسٹین فائلز کے اجرا کے بعد سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ سابق برطانوی سفیر اور لیبر پارٹی کے سینئر رہنما پیٹر مینڈلسن پر ایپسٹین سے طویل عرصے تک روابط رکھنے اور حساس معلومات کے تبادلے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ نئی دستاویزات کے مطابق مینڈلسن نے 2008 میں ایپسٹین کی سزا کے بعد بھی اس سے رابطے برقرار رکھے، جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق انہیں اپنے عہدوں سے دستبردار بھی ہونا پڑا ہے۔
یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین کو 2008 میں کم عمر لڑکی کو جسم فروشی پر اکسانے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی، جبکہ 2019 میں جیل میں اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا، اس وقت وہ جنسی اسمگلنگ کے نئے الزامات کا سامنا کر رہا تھا۔
حال ہی میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ایپسٹین سے متعلق لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز جاری کی گئی ہیں، جن میں متعدد بااثر شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔ ان انکشافات کے بعد کئی ممالک میں سیاسی و قانونی دباؤ بڑھ گیا ہے اور متعدد افراد کو استعفے دینے کے ساتھ عوامی اور سرکاری تحقیقات کا سامنا ہے۔
UrduLead UrduLead