
مٹی کو قدرت کا عظیم تحفہ قرار دیا جاتا ہے جو انسانی جسم اور دماغ کو متعدد فوائد پہنچاتی ہے۔
ماہرین صحت اور سائنسی تحقیقات کے مطابق ننگے پاؤں مٹی، گھاس یا زمین پر چلنا (جسے “ارتھنگ” یا “گراؤنڈنگ” کہا جاتا ہے) جسم سے منفی توانائی جذب کر کے مثبت توانائی فراہم کرتا ہے، جس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے۔
تحقیقات بتاتی ہیں کہ مٹی میں موجود مفید بیکٹیریا جلد کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ یہ عمل سوزش (inflammation) کو کم کرتا ہے، زخم جلدی بھرتے ہیں اور دائمی بیماریوں جیسے خودکار امراض سے تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ نیند بہتر کرتا ہے، تناؤ اور اضطراب میں کمی لاتا ہے اور خون کی گردش کو تیز کرتا ہے۔بچپن کی یادوں میں اکثر لوگ ننگے پاؤں گھروں کے صحن، گلیوں یا کھیتوں میں کھیلتے تھے جہاں کچی مٹی اور گھاس ہوتی تھی۔
اس وقت بچے بیماریوں سے نسبتاً دور رہتے تھے کیونکہ مٹی سے براہ راست رابطہ ان کے مدافعتی نظام کو قدرتی طور پر تربیت دیتا تھا۔آج کے جدید دور میں بچوں کو مٹی میں کھیلنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ شہری زندگی، جوتوں کا استعمال، اسکرین ٹائم اور والدین کی صفائی کی انتہائی فکر کی وجہ سے بچے فطرت سے دور ہو گئے ہیں۔
کپڑوں پر تھوڑی سی مٹی لگ جائے تو گھروں میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ “نیچر ڈیفیسٹ ڈس آرڈر” (فطرت سے دوری کی بیماری) ہے جو بچوں میں موٹاپا، توجہ کی کمی (ADHD)، اضطراب، ڈپریشن اور الرجیز جیسی بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
سائنسی مطالعات (جیسے PMC اور دیگر جرائد میں شائع) سے ثابت ہوا ہے کہ فطرت سے رابطہ کم ہونے سے مدافعتی نظام کمزور پڑتا ہے اور دائمی صحت کے مسائل بڑھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کو روزانہ چند منٹ ننگے پاؤں گھاس یا مٹی پر چلنے دیا جائے تو ان کی جسمانی اور ذہنی صحت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ جتنا ہم فطرت سے دور ہوں گے، صحت کے مسائل اتنا ہی بڑھتے جائیں گے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ صبح کے وقت 10-15 منٹ ننگے پاؤں پارک، باغ یا گھاس پر چہل قدمی کریں، بچوں کو مٹی میں کھیلنے دیں تاکہ وہ قدرتی طور پر صحت مند اور خوش رہیں۔
فطرت سے جڑنا نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی سکون بھی بخشتا ہے۔ آئیے اس سادہ مگر طاقتور عمل کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں!
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے ، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
UrduLead UrduLead