
امریکا نے پاکستان کے اہم معدنیات کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر ریکوڈک معدنیات منصوبے کو تقویت دینے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رقم امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔
واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے زیرِ صدارت منعقدہ کریٹیکل منرلز منسٹریل میں پاکستان کے وفد نے شرکت کی، جہاں اہم معدنیات کی عالمی سپلائی چین کو محفوظ بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سپلائی چین کے متبادل ذرائع قائم کرنے، محفوظ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس نظام کو بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
یہ فنانسنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’’پراجیکٹ والٹ‘‘ کے تحت منظور کی گئی ہے، جس کا مقصد اہم معدنیات تک محفوظ اور قابلِ اعتماد رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ریکوڈک منصوبہ دنیا کے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر پر مشتمل ہے اور اسے پاکستان کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سرمایہ کاری سے نہ صرف پاکستان کے معدنیات کے شعبے کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی معیشت کو طویل مدتی بنیادوں پر فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
UrduLead UrduLead