اتوار , فروری 8 2026

پیٹرولیم لیوی کی 823 ارب کی ریکارڈ وصولی

وفاقی وزارت خزانہ کی تازہ ترین دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ شہریوں پر پیٹرولیم لیوی کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر 2025) میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق اس مدت میں پیٹرولیم لیوی کی کل وصولی 822 ارب 93 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو ملک کی تاریخ میں کسی بھی ششماہی کے لیے سب سے زیادہ رقم ہے۔

گزشتہ سال کی اسی مدت (جولائی تا دسمبر 2024) میں یہ وصولی 549 ارب 41 کروڑ روپے تھی، یعنی سالانہ بنیاد پر 273 ارب 51 کروڑ روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رواں مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا مجموعی ہدف 1,468 ارب 39 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال 2024-25 کی اصل وصولی 1,220 ارب 21 کروڑ 30 لاکھ روپے سے تقریباً 248 ارب روپے زیادہ ہے۔

پچھلے چند سالوں کی وصولی کا موازنہ:

  • مالی سال 2024-25: 1,220 ارب 21 کروڑ روپے
  • مالی سال 2023-24: 1,019 ارب روپے
  • مالی سال 2022-23: 580 ارب روپے

یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کے تحت غیر ٹیکس ریونیو بڑھانے کے لیے پیٹرولیم لیوی کو اہم ذریعہ بنا رکھا ہے۔

حالیہ مہینوں میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شرح میں اضافہ اور کاربن لیوی کا نفاذ بھی اس اضافے کا سبب بنا ہے، جس سے صارفین کو ریلیف کی بجائے مزید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم رکھیں اور لیوی بڑھا کر ریونیو خسارے کو پورا کیا، جس کا براہ راست اثر عام آدمی کی جیب پر پڑ رہا ہے۔

یہ اعداد و شمار عوام پر بڑھتے ٹیکس بوجھ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جبکہ حکومت کو آئندہ مہینوں میں بھی ہدف حاصل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پاکستان کی نیدرلینڈز کو 3 وکٹ سے شکست

ئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے افتتاحی میچ میں پاکستان نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے