
قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی انتظامیہ نے ملک میں موجود اپنی پانچ اہم جائیدادوں کا ازسرِنو تخمینہ لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے لیے حکومت سے رجسٹرڈ فرموں سے درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق جن جائیدادوں کی نئی ویلیوایشن کی جائے گی ان میں سیلز آفس بلیو ایریا اسلام آباد، بکنگ آفس راولپنڈی، ہیڈکوارٹرز کے لیے مختص پلاٹ، پشاور اور کوئٹہ میں قائم قومی ایئر لائن کے سیلز آفس شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد جائیدادوں کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کا درست تعین کرنا ہے تاکہ آئندہ مالی اور انتظامی فیصلوں میں سہولت حاصل کی جا سکے۔
دوسری جانب پی آئی اے کی مالی مشکلات بدستور برقرار ہیں۔ قومی ایئر لائن کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو تقریباً 30 ارب روپے کے مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ایس او کو امید تھی کہ یہ واجبات پی آئی اے کی اسلام آباد میں واقع جائیداد کی منتقلی کے ذریعے طے کر لیے جائیں گے، تاہم ایئر لائن کی نجکاری کے باوجود یہ لین دین تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔
پی آئی اے انتظامیہ نے رجسٹرڈ فرموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جائیدادوں کی ویلیوایشن کے لیے اپنی درخواستیں 13 فروری تک قومی ایئر لائن کو جمع کرائیں۔
UrduLead UrduLead