
کے الیکٹرک (کے ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونِس علوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
پی ایس ایکس میں جمع کرائی گئی 6 فروری کی ڈسکلوژر کے مطابق، “سید مونِس عبداللہ علوی نے کے الیکٹرک لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔”
یہ اطلاع سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کی شق 96 اور 131 اور پی ایس ایکس رول بک کی شق 5.6.1(a) کے تحت دی گئی۔
ڈسکلوژر میں چیف لسٹنگ منیجر پی ایس ایکس سے درخواست کی گئی ہے کہ یہ معلومات ایکسچینج کے ٹی آر ای سرٹیفکیٹ ہولڈرز تک پہنچائی جائیں۔
After 18 years with K-Electric, including almost 8 as CEO, I have decided to step down.
— Moonis Alvi (@alvimoonis) February 6, 2026
It has been an honour to serve an institution so central to Karachi’s life, alongside some of the most resilient and committed professionals I know. I will support a smooth transition.
مونِس علوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بھی اپنے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی زندگی میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ادارے کی قیادت کرنا ان کے لیے اعزاز رہا اور وہ ادارے میں ہموار منتقلی کے عمل میں تعاون کریں گے۔
واضح رہے کہ جولائی گزشتہ سال صوبائی محتسب برائے تحفظِ خواتین از ہراسانی نے کے ای کے سابق چیف مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشن آفیسر کو ہراساں کرنے کے الزام میں مونِس علوی کو عہدے سے ہٹانے اور مدعیہ کو 25 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مونِس علوی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں مونِس علوی نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جہاں عدالت نے صوبائی محتسب کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔ اگست میں ہونے والی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے اس حکمِ امتناع میں توسیع بھی کر دی تھی۔
اس کے علاوہ مونِس علوی نے سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری کے سامنے بھی اپیل دائر کی تھی۔ 3 فروری کو گورنر سندھ نے دونوں فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد صوبائی محتسب کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا۔
سماعت کے دوران مونِس علوی نے مؤقف اختیار کیا کہ شکایت قابلِ سماعت نہیں تھی اور کسی قسم کی ہراسانی نہیں ہوئی، جبکہ محتسب کا فیصلہ مفروضوں پر مبنی تھا۔ دوسری جانب مدعیہ نے دلائل دیے کہ محتسب کا فیصلہ قانون کے مطابق تھا اور شکایت درج کرانے کے لیے کسی اور فورم سے رجوع کرنا ضروری نہیں تھا۔
مونِس علوی کے استعفے کے بعد کے الیکٹرک میں قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے پیش رفت پر مارکیٹ اور صارفین کی نظریں مرکوز ہیں۔
UrduLead UrduLead