
ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام سمیت علاقائی تناؤ کم کرنے کے لیے اہم براہ راست مذاکرات آج صبح 10 بجے (مقامی وقت) عمان کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی جوہری مذاکرات کے لیے مسقط پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران ان مذاکرات میں مکمل اختیار کے ساتھ شرکت کر رہا ہے اور منصفانہ، باہمی طور پر قابل قبول اور باوقار مفاہمت تک پہنچنے کا عزم رکھتا ہے۔
امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی آج مسقط پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں، جو ماضی میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کا اہم پلیٹ فارم رہا ہے۔
یہ ملاقات اس وقت ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان جوہری تنازع، علاقائی کشیدگی اور حالیہ واقعات کے باعث صورتحال نازک ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایک جامع اور پائیدار معاہدے کے لیے تیار ہیں جبکہ امریکہ کی جانب سے بھی سفارت کاری کو ترجیح دینے کا اظہار کیا گیا ہے، البتہ دیگر آپشنز بھی زیر غور رکھے جا رہے ہیں۔
یہ مذاکرات خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں اور عالمی برادری کی جانب سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
UrduLead UrduLead