منگل , فروری 3 2026

RDA اسکینڈل: ڈی جی کنزہ مرتضیٰ فارغ

راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) میں دو ارب روپے سے زائد کے تاریخی مالیاتی اسکینڈل کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے ڈائریکٹر جنرل کنزہ مرتضیٰ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

چیف سیکرٹری کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کنزہ مرتضیٰ کو ڈائریکٹر جنرل بارانی ایریا ڈویلپمنٹ ایجنسی آباد میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ اسی نوٹیفکیشن میں کمشنر راولپنڈی عامر خٹک کو ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔

کنزہ مرتضیٰ کے دورِ اقتدار میں آر ڈی اے کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی اسکینڈل سامنے آیا تھا جس میں دو ارب روپے سے زائد کی غیر قانونی منتقلیاں ہوئیں۔ نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) نے اس معاملے میں تیز رفتاری سے تحقیقات شروع کیں اور اب تک اہم پیش رفت کر لی ہے۔

نیب نے ڈی جی آر ڈی اے کنزہ مرتضیٰ، سابق ڈی جیز اور دیگر افسران سمیت 48 افراد کی جائیدادوں کی تفصیلات لاہور، کراچی، ملیر، گوادر، راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور سی ڈی اے سے طلب کر لی ہیں۔

آر ڈی اے کے آفیشل اکاؤنٹ سے دو ارب سے زائد کی رقوم سی ڈی آر کے ذریعے مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں جبکہ کنٹریکٹرز کے سیکورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹ سے بھی غیر قانونی منتقلیاں عمل میں لائی گئیں۔

نیب نے اس کیس میں دو افراد کو جیل بھیج دیا ہے جبکہ ایک ملزم نے پلی بارگین کر لیا ہے۔ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے قائم کی گئی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی۔

دوسری جانب راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کنٹرولڈ ایریاز میں غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق کنٹرولڈ ایریا میں فی الحال 143 غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں فعال ہیں جو شہریوں کو دھوکہ دہی کا شکار بنا رہی ہیں۔

یہ تبدیلیاں آر ڈی اے میں جاری مالی بدعنوانیوں اور غیر قانونی سرگرمیوں پر حکومتی سطح پر سخت ایکشن کا اشارہ ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ نئی قیادت کے ساتھ آر ڈی اے میں شفافیت اور احتساب کے عمل کو تیز کیا جائے گا تاکہ عوام کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔نیب کی تحقیقات جاری ہیں اور اس اسکینڈل کے مزید انکشافات متوقع ہیں جو پنجاب کی انتظامیہ اور ترقیاتی اداروں کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مستقل سربراہان کی عدم تقرری سے شدید انتظامی بحران

وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ذیلی ادارے طویل عرصے سے عارضی بنیادوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے