
آئی سی سی مردوں کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے قبل امریکا کرکٹ ٹیم کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ پاکستانی نژاد چار کھلاڑیوں کے بھارتی ویزے مسترد کر دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی ٹورنامنٹ میں شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
فاسٹ بولر علی خان نے سوشل میڈیا پر انسٹاگرام سٹوری شیئر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کا بھارتی ویزا مسترد ہو گیا ہے۔ انہوں نے لکھا: “India visa denied but KFC for the win”۔
رپورٹس کے مطابق شایان جہانگیر، احسان عادل اور محمد محسن کے ویزے بھی مسترد کیے گئے ہیں۔ یہ چاروں کھلاڑی پاکستانی پس منظر رکھتے ہیں اور علی خان اٹک شہر (پاکستان) میں پیدا ہوئے تھے۔
یہ مسئلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹورنامنٹ کا آغاز 7 فروری 2026 سے بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ میزبانی میں ہو رہا ہے۔
امریکا گروپ اے میں شامل ہے جس میں بھارت، پاکستان، نمیبیا اور نیدرلینڈز شامل ہیں۔ امریکا کا پہلا میچ بھارت کے خلاف 7 فروری کو ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں ہے۔
گروپ مرحلے میں امریکا کے چار میچز میں سے تین بھارت میں شیڈول ہیں: بھارت کے خلاف: ممبئی (7 فروری) نیدرلینڈز اور نمیبیا کے خلاف: چنئی (13 اور 15 فروری)
پاکستان کے خلاف میچ سری لنکا میں کھیلا جائے گا۔بھارتی ویزا پالیسی کے تحت پاکستانی نژاد افراد (چاہے وہ کسی اور ملک کے شہری ہوں) کو ویزا کے لیے پاکستانی پاسپورٹ پر درخواست دینی پڑتی ہے، جس کی وجہ سے پروسیسنگ میں تاخیر یا مستردگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماضی میں بھی ایسے کئی کیسز سامنے آ چکے ہیں۔یہ معاملہ امریکا ٹیم کے لیے بڑا دھچکا ہے کیونکہ علی خان 2024 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کلیدی بولر تھے، جہاں انہوں نے بھارت کے رشبھ پنت اور پاکستان کے فخر زمان کو آؤٹ کیا تھا۔
ان کی عدم موجودگی سپر ایٹ تک رسائی کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہے۔اب تک امریکا کرکٹ یا آئی سی سی کی طرف سے سرکاری تصدیق نہیں آئی، البتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ بورڈز آئی سی سی سے رابطے میں ہیں تاکہ مسئلہ حل کیا جا سکے۔ ٹورنامنٹ سے قبل ویزا مسائل حل نہ ہوئے تو ٹیم کی تیاریوں پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead