
قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے تاریخی عمل میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جب فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ (ایف ایف سی) نے عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں کامیاب کنسورشیم میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا۔ اس پارٹنرشپ سے ایئرلائن کی مالی استحکام اور کارپوریٹ گورننس کو مزید مضبوط بنانے کی توقع ہے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی لگا کر پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کیے ہیں۔ کنسورشیم میں عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی سکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں۔ فوجی فرٹیلائزر کی شمولیت سے یہ گروپ مزید طاقتور ہو گیا ہے جو ایئرلائن کی بحالی کے لیے مالی مدد اور انتظامی مہارت فراہم کرے گا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے حکومت کو مجموعی طور پر 55 ارب روپے حاصل ہوں گے جن میں 10 ارب روپے کیش اور باقی 25 فیصد حصص کی مالیت شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بولی کی رقم کا بڑا حصہ ایئرلائن میں دوبارہ سرمایہ کاری کی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق کنسورشیم زمینی آپریشنز کی اپ گریڈیشن اور فلائٹ آپریشنز کی بہتری پر پہلے سال ہی 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔
کنسورشیم کے سربراہ عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے کو عالمی معیار کی ایئرلائن بنانے کے لیے فلائٹ کی تعداد بڑھائی جائے گی اور سروسز کو بہتر بنایا جائے گا۔یہ نجکاری تقریباً دو دہائیوں بعد ملک کی پہلی بڑی نجکاری ہے جو شفاف اور مسابقتی عمل سے مکمل ہوئی۔
حکومت نے ایئرلائن کے قرضوں کو الگ کر کے اسے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنایا تھا۔ ملازمین کی نوکریوں کو ایک سال تک تحفظ دیا گیا ہے جبکہ پنشن اور دیگر مراعات ہولڈنگ کمپنی کے ذمے رہیں گی۔مشیر نجکاری نے فوجی فرٹیلائزر کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ایئرلائن کی بحالی میں فائدہ ہوگا اور ملک کی معیشت کو تقویت ملے گی۔
UrduLead UrduLead