اتوار , نومبر 30 2025

خواتین میں میٹھا کھانے کا غلط تاثر: اصل وجہ… کیلشیئم اور آئرن کی کمی

ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اکثر خواتین کمزوری یا تھکن محسوس ہونے پر فوری توانائی کے لیے میٹھا یا چاکلیٹ کھا لیتی ہیں، حالانکہ اس وقت جسم کو چینی نہیں بلکہ کیلشیئم اور آئرن (لوہے) جیسے بنیادی غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ غلط تاثر نہ صرف ایک بری عادت بن جاتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ جسم میں ضروری وٹامنز اور منرلز کی شدید کمی پیدا کر دیتا ہے۔ خاص طور پر آئرن کی کمی خون کی کمی (انیمیا) کا باعث بنتی ہے، جس سے بہت سی لڑکیاں اور خواتین مسلسل تھکاوٹ، چکر آنا، چہرے کا زرد پن اور کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ میٹھا صرف عارضی توانائی فراہم کرتا ہے، جبکہ اصل مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ ان کا مشورہ ہے کہ توانائی کی کمی محسوس ہونے پر میٹھا کھانے کے بجائے خواتین کو اپنی غذا میں ان اجزاء کو شامل کرنا چاہیے جو آئرن اور کیلشیئم کی کمی کو پورا کریں۔

کیلشیئم اور آئرن کی کمی پوری کرنے کے 5 سستے اور مؤثر غذائی حل

ماہرینِ غذائیت نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مہنگے سپلیمنٹس کے بجائے روزمرہ کی سستی اور عام دستیاب غذاؤں سے اپنی کمی کو پورا کر سکتی ہیں:

نمبرغذااہم جزوتفصیل اور فوائد
1دالیں اور چنےآئرن، پروٹینمسور کی دال، چنے اور لوبیا آئرن کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان کا باقاعدہ استعمال انیمیا سے لڑنے میں مدد دیتا ہے اور ضروری توانائی فراہم کرتا ہے۔
2دہی (Yogurt)کیلشیئم، وٹامن ڈیدہی کیلشیئم کا ایک سستا اور آسانی سے ہضم ہونے والا ذریعہ ہے۔ یہ ہڈیوں کو مضبوط بنانے اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
3گڑ (Jaggery)آئرنگڑ (خاص طور پر سیاہ گڑ) چینی کا ایک صحت مند متبادل ہے اور یہ آئرن سے بھرپور ہوتا ہے۔ خون کی کمی کی صورت میں اسے گرم دودھ یا چنے کے ساتھ استعمال کرنا مؤثر ہے۔
4تل (Sesame Seeds)کیلشیئم، آئرنیہ چھوٹے دانے کیلشیئم اور آئرن کا پاور ہاؤس ہیں۔ انہیں ہلکا بھون کر یا میٹھی اشیاء میں شامل کر کے کیلشیئم کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔
5پالک اور سرسوں کا ساگآئرن، کیلشیئمسبز پتوں والی یہ سبزیاں پاکستان میں بہت سستی اور عام دستیاب ہیں۔ یہ خون بنانے کے عمل کو تیز کرتی ہیں اور ہڈیوں کی صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں۔

ماہرین نے مزید کہا ہے کہ غذائی کمی کو نظرانداز کرنا مستقبل میں سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے، اس لیے خواتین کو اپنی غذائی ضروریات کے حوالے سے زیادہ احتیاط اور آگاہی برتنی چاہیے اور اس کے ساتھ باقاعدہ ٹیسٹ کروانا بھی ضروری ہے تاکہ کمی کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

فیڈرل بورڈ نے SSC Part-I اور Part-II 2025 کے نتائج کا اعلان کیا

وفاقی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) نے 28 نومبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے