
ملک میں شرح دنیا میں سب سے بلند
حالیہ تجزیوں اور مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ پاکستانی عوام مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس، جیسے چیٹ جی پی ٹی اور گروک، سے صحت کے موضوعات میں سب سے زیادہ سوالات ذیابیطس کے بارے میں کرتے ہیں۔ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں بالغوں میں ذیابیطس کی شرح تقریباً 31 فیصد کے ساتھ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔
پس منظر
بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 20 سے 79 سال کی عمر کے بالغوں میں ذیابیطس کی عمر کے مطابق شرح دنیا میں سب سے بلند ہے۔ ملک میں تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ بالغ افراد اس مرض کا شکار ہیں، جس کے باعث پاکستان مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے چین، بھارت اور امریکہ کے بعد سرِفہرست ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے بوجھ نے شہریوں کو خوراک، بلڈ شوگر کے کنٹرول، ادویات اور طرز زندگی سے متعلق رہنمائی کے لیے مصنوعی ذہانت کی جانب راغب کیا ہے، خاص طور پر دیسی کھانوں جیسے روٹی، بریانی اور چائے کے حوالے سے سوالات نمایاں ہیں۔ ملک میں کئی دو لسانی (اردو اور انگریزی) اے آئی ٹولز بھی متعارف کرائے جا چکے ہیں جو دیسی خوراک کے منصوبوں اور طبی معلومات پر مبنی ہیں۔
سماجی رابطوں پر ردعمل
شہری نوجوانوں پر کیے گئے ایک مطالعے کے مطابق تقریباً 69 فیصد نوجوان صحت کے مسائل کے لیے جنریٹو اے آئی کا استعمال کرتے ہیں۔ ان میں جسمانی علامات سب سے زیادہ زیرِ بحث آتی ہیں، جبکہ فٹنس، غذائیت اور ذہنی صحت بھی نمایاں موضوعات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ صارفین کے درمیان ذیابیطس کے علاوہ بلڈ پریشر، ذہنی صحت، حیض سے متعلق مسائل اور موسمی بیماریوں جیسے ڈینگی سے متعلق سوالات بھی زیرِ گردش رہتے ہیں، تاہم ذیابیطس کا موضوع سب سے نمایاں قرار دیا گیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت صرف ابتدائی معلومات اور آگاہی کے لیے ایک مددگار ذریعہ ہو سکتی ہے، لیکن یہ کسی مستند معالج کی جگہ نہیں لے سکتی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس جیسے دائمی مرض میں ادویات کی خوراک، پیچیدگیوں کی تشخیص اور علاج کے فیصلے ہمیشہ اہل ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کیے جانے چاہئیں۔
UrduLead UrduLead