Related Articles

صرف ایک سلیب میں کمی پر غور
قومی اسمبلی کے رکن قاسم گیلانی کی جانب سے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کے دعوے کے بعد اس معاملے پر ابہام پیدا ہوگیا ہے، جبکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اراکین کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی کے مکمل خاتمے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا بلکہ صرف مخصوص سلیب میں کمی پر غور کیا گیا ہے۔
قاسم گیلانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے، جس سے عوام کو ٹیکنالوجی تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔ تاہم وفاقی حکومت یا وزارت خزانہ کی جانب سے اس دعوے کی تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے رکن ارشد وہرہ نے بتایا کہ کمیٹی کے اجلاس میں موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کے مختلف سلیبز کا جائزہ لیا گیا اور 201 ڈالر سے زائد قیمت کے فونز پر ڈیوٹی میں کمی کی تجویز زیر غور آئی، تاہم مکمل خاتمے پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
کمیٹی کے ایک اور رکن مرزا اختیار بیگ کے مطابق 201 سے 350 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں رعایت دینے پر اتفاق ہوا ہے، جس کی حتمی سفارشات بجٹ رپورٹ میں شامل کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی اے ٹیکس یا دیگر محصولات ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بجٹ 2026-27 کے حوالے سے زیر غور تجاویز میں درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں کے نظام کو آسان بنانے اور بعض صورتوں میں اقساط کے ذریعے ادائیگی کی سہولت دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
فی الوقت ایف بی آر کے قواعد کے مطابق 201 سے 350 ڈالر مالیت کے فونز پر 14 ہزار 661 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی کے علاوہ 17 فیصد سیلز ٹیکس بھی وصول کیا جاتا ہے، جبکہ زیادہ قیمت والے فونز پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی شرح مزید بڑھ جاتی ہے۔
ٹیکس ماہرین کے مطابق پاکستان میں موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی پہلی بار مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں متعارف کرائی گئی تھی، جبکہ 2019 میں درآمدی قیمت کی بنیاد پر مختلف سلیبز کا نظام نافذ کیا گیا۔ بعد ازاں 2023 میں درآمدی پابندیوں میں نرمی کے بعد حکومت نے بعض ڈیوٹیوں میں تقریباً 50 فیصد تک کمی بھی کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی کا بنیادی مقصد مقامی موبائل فون اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ صنعت کو فروغ دینا تھا، تاہم پالیسی میں تسلسل کی کمی اور بلند ٹیکس شرحوں کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
اب تمام نظریں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی حتمی سفارشات اور وفاقی حکومت کے باضابطہ اعلان پر مرکوز ہیں، جس کے بعد ہی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں ممکنہ کمی یا تبدیلی کی حقیقی تصویر سامنے آئے گی۔
UrduLead UrduLead