
پاکستان میں گرمیوں کے موسم میں مختلف اقسام کے جوس، شربت اور کولڈ ڈرنکس کا استعمال بڑھ جاتا ہے، تاہم غذائی ماہرین اور معالجین نے خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب بعض سستے مشروبات میں قدرتی پھلوں کے بجائے مصنوعی فروٹ کنسنٹریٹ، مصنوعی خوشبو (فروٹ ایسنس) اور اضافی مٹھاس پیدا کرنے والے اجزا استعمال کیے جاتے ہیں، جن کا مسلسل اور زیادہ استعمال انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق معیاری فروٹ کنسنٹریٹ اگر فوڈ سیفٹی کے مقررہ معیار کے مطابق تیار کیا جائے تو اس کے استعمال میں عمومی طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، تاہم غیر معیاری یا غیر رجسٹرڈ مصنوعات میں مصنوعی رنگ، کیمیکل فلیورز اور ضرورت سے زیادہ چینی یا ہائی فرکٹوز کارن سیرپ شامل ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر زیادہ مقدار میں میٹھے مشروبات پینے سے موٹاپا، ذیابیطس ٹائپ ٹو، جگر میں چربی جمع ہونے (فیٹی لیور)، دانتوں کی خرابی اور دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بعض افراد، خصوصاً بچوں اور الرجی کے مریضوں میں مصنوعی رنگ اور فلیورز حساسیت، معدے کی خرابی یا جلدی ردعمل کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
غذائیت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی مقامی مشروبات پر “فروٹ ڈرنک” یا “جوس ڈرنک” درج ہوتا ہے، لیکن ان میں اصل پھلوں کا تناسب بہت کم ہوتا ہے، جبکہ باقی حصہ پانی، چینی، مصنوعی فلیورز اور دیگر اضافی اجزا پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ اس لیے صارفین کو خریداری سے قبل مصنوعات پر درج اجزا (Ingredients) اور غذائی معلومات (Nutrition Facts) ضرور پڑھنی چاہئیں۔
ماہرین نے والدین کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر رنگین اور زیادہ میٹھے مشروبات دینے کے بجائے تازہ پھل، قدرتی جوس، لسی یا سادہ پانی کی عادت ڈالیں، کیونکہ بچپن میں غیر متوازن غذائی عادات مستقبل میں مختلف دائمی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔
فوڈ سیفٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ متعلقہ سرکاری اداروں کو غیر معیاری مشروبات کی تیاری اور فروخت کے خلاف نگرانی مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کو محفوظ اور معیاری غذائی مصنوعات میسر آ سکیں۔
طبی ماہرین کا اتفاق ہے کہ اگرچہ منظور شدہ معیار کے مطابق تیار کردہ فلیورز اور کنسنٹریٹس محدود مقدار میں محفوظ سمجھے جاتے ہیں، لیکن مصنوعی اجزا سے بھرپور اور زیادہ شکر والے مشروبات کا روزمرہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے اعتدال اور معیاری مصنوعات کا انتخاب ہی بہتر حکمت عملی ہے۔
UrduLead UrduLead