
5G ٹیکنالوجی کے نفاذ کے بعد مہنگے سمارٹ فونز کو عام پاکستانیوں کی پہنچ میں لانے کے لیے حکومت کا اہم پالیسی تجویز رکاوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔
حکومت نے مہنگے 5G enabled ہینڈ سیٹس کو قسطوں پر فروخت کرنے کی پالیسی پر کچھ عرصے سے کام جاری رکھا ہوا ہے۔ 10 مارچ کو ہونے والے 5G سپیکٹرم نیلامی کے بعد اس پالیسی کی ضرورت مزید واضح ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق 5G سروسز کے رول آؤٹ کے بعد دور دراز اور غیر خدمت شدہ علاقوں میں 4G سروسز میں اضافہ متوقع ہے، جس سے سمارٹ فونز کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو گا۔
اطلاعات و ٹیکنالوجی وزارت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ تمام بڑی ٹیلی کام کمپنیاں عوامی سطح پر اس اقدام کی حمایت کر چکی ہیں، مگر کچھ فریق ابھی تک حکومت کو اپنا سرکاری جواب جمع نہیں کرا سکے۔
یہ پالیسی 5G دور میں ڈیجیٹل inclusion بڑھانے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، مگر اس میں شامل تمام فریقوں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
UrduLead UrduLead