حالیہ دنوں چاندی اسکینڈل کے بعد آڈٹ اور اسٹاک ٹیکنگ کا عمل جاری تھا

بلوچستان کے علاقے لک پاس میں واقع پاکستان کسٹمز کے ویئر ہاؤس میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں کم از کم 37 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے جبکہ اربوں روپے مالیت کا سامان، گاڑیاں اور دیگر قیمتی اشیا جل کر خاکستر ہوگئیں۔ واقعے کے دوران ایل پی جی باوزرز اور گیس سلنڈرز میں پے در پے دھماکوں سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح تقریباً 11 بجے ویئر ہاؤس میں اچانک آگ بھڑکی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے گودام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے بلند شعلے دور دور تک دکھائی دیتے رہے جبکہ دھماکوں کی آوازیں کئی کلومیٹر تک سنی گئیں۔
واقعے کے بعد کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے فائر بریگیڈ، ریسکیو ٹیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری طلب کرلیا گیا۔ کوئٹہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور ڈاکٹرز و طبی عملے کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
زخمیوں کو ابتدائی طور پر شیخ زید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد شدید زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ اور بی ایم سی برن یونٹ منتقل کردیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کسٹمز ویئر ہاؤس میں حالیہ دنوں چاندی اسکینڈل کے بعد آڈٹ اور اسٹاک ٹیکنگ کا عمل جاری تھا، جس کے دوران اربوں روپے مالیت کے سامان میں مبینہ فرق سامنے آیا تھا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پکڑا گیا سامان ویئر ہاؤس سے غائب پایا گیا، جبکہ بعض حلقوں میں یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ بے ضابطگیوں اور آڈٹ میں انکشافات کے خوف سے آگ لگنے کے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
تاحال حکام کی جانب سے آگ لگنے کی اصل وجہ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم کسٹمز، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نقصانات اور واقعے کے محرکات کا مکمل اندازہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔
UrduLead UrduLead