اتوار , اپریل 26 2026

گرمی میں تربوز کے جوس کا رجحان عروج پر

مقامی پھلوں کے امتزاج سے گرمی میں طلب میں اضافہ

پاکستان بھر میں بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث تربوز کے جوس اور دیگر مقامی پھلوں کے امتزاج سے تیار مشروبات کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً شہری علاقوں میں یہ رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔

لاہور، کراچی اور راولپنڈی سمیت بڑے شہروں میں جوس فروشوں کے مطابق تربوز کے جوس کو آم، فالسہ، لیموں اور پودینے کے ساتھ ملا کر پیش کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف ذائقے میں منفرد ہے بلکہ شدید گرمی میں فوری تازگی بھی فراہم کرتا ہے۔

پاکستان میں موسمِ گرما کے دوران درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ برسوں میں ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیہ بڑھا ہے، جس کے باعث قدرتی اور ٹھنڈک بخش مشروبات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

تربوز، جو پنجاب اور سندھ میں بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے، اپنی زیادہ پانی کی مقدار کے باعث گرمیوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پھل ہے۔ زرعی منڈیوں جیسے ملتان اور رحیم یار خان سے اس کی بڑے پیمانے پر ترسیل ملک بھر میں دستیابی کو یقینی بناتی ہے۔

جوس فروش صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے مختلف تجربات کر رہے ہیں۔ تربوز اور فالسہ کا امتزاج خاص طور پر پسند کیا جا رہا ہے، جبکہ تربوز، پودینہ اور لیموں کا جوس نوجوانوں میں زیادہ مقبول ہے۔

کراچی کے صدر اور دیگر مصروف علاقوں میں سڑک کنارے لگے اسٹالز پر رنگ برنگے جوس نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں، جہاں دن بھر خریداروں کا رش رہتا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ لوگ اب کاربونیٹڈ مشروبات کے بجائے قدرتی جوس کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ماہرینِ غذائیت کے مطابق تربوز وٹامن اے اور سی سے بھرپور ہوتا ہے، جبکہ دیگر مقامی پھل جسم کو ضروری نمکیات اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتے ہیں، جو گرمی کے اثرات سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پھلوں کی پیداوار مستحکم ہے، جس کے باعث مقامی جوس نسبتاً سستے داموں دستیاب ہیں۔ ایک گلاس تربوز کے جوس کی قیمت عام طور پر 100 سے 200 روپے کے درمیان ہوتی ہے، جو اسے عام صارف کے لیے قابل رسائی بناتی ہے۔

تاہم ماہرین نے سڑک کنارے جوس فروخت کرنے والے اسٹالز پر صفائی کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے، خاص طور پر شدید گرمی میں۔

ماحولیاتی تبدیلی بھی زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے، جس سے مستقبل میں پھلوں کی دستیابی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین بہتر آبپاشی اور ذخیرہ اندوزی کے نظام پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اس کے باوجود تربوز اور دیگر مقامی پھلوں کے جوس کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان رنگین اور صحت بخش مشروبات کو خاصی توجہ مل رہی ہے، جس سے نوجوان نسل میں اس کا استعمال مزید فروغ پا رہا ہے۔

شدید گرمی کے اس موسم میں تربوز اور مقامی پھلوں سے تیار جوس نہ صرف ایک سادہ مشروب بلکہ پاکستانیوں کے لیے روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ٹرانسپورٹ بحال، اڈے کھولنے کا اعلان

پیرودھائی سمیت تمام اڈے صبح 6 بجے کھلیں گے، میٹرو سروس جزوی بحال راولپنڈی میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے