پیر , مارچ 30 2026

Lahore Hospital: ڈاکٹروں کی استعفوں کی دھمکی

وائی ڈی اے کا معطل ڈاکٹروں کی بحالی کا مطالبہ، احتجاج کا اعلان

لاہور کے Lady Willingdon Hospital میں آپریشن کی ویڈیو تنازع شدت اختیار کرگیا، جہاں Young Doctors Association نے آٹھ ڈاکٹروں کی معطلی کے خلاف صوبہ بھر میں اجتماعی استعفوں کی دھمکی دے دی۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک سرجری کے دوران بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد پنجاب حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ ڈاکٹروں کو معطل کر دیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام پیشہ ورانہ ضابطوں کی مبینہ خلاف ورزی پر کیا گیا، تاہم مکمل تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آئیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس اقدام کو سختی سے مسترد کیا۔ تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ویڈیو تقریباً نو ماہ پرانی ہے اور اس بنیاد پر اچانک کارروائی کرنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جونیئر ڈاکٹروں سے مبینہ طور پر زبردستی بیانات لیے گئے، جو شفاف عمل کے خلاف ہے۔

ڈاکٹر احمد گجر اور ڈاکٹر شعیب نیازی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس ویڈیو سے کسی مریض کی رازداری متاثر نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اگر کوئی غلطی ہوئی بھی ہے تو اسے معمولی نوعیت کی سمجھ کر اصلاح کی جانی چاہیے، نہ کہ ڈاکٹروں کے کیریئر کو خطرے میں ڈالا جائے۔

پاکستان میں طبی اخلاقیات کے حوالے سے Pakistan Medical and Dental Council مریض کی رازداری اور پیشہ ورانہ رویے کو بنیادی اہمیت دیتا ہے، تاہم سرکاری اسپتالوں میں ان اصولوں پر عملدرآمد میں اکثر مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی World Health Organization نے طبی عملے کو مریضوں کے ڈیٹا اور وقار کے تحفظ کی سختی سے ہدایت کی ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل آلات کے بڑھتے استعمال کے تناظر میں۔

یہ معاملہ پنجاب کے سرکاری صحت کے نظام میں موجود وسیع تر مسائل کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ڈاکٹروں نے الزام لگایا کہ اسپتالوں میں ادویات، سرجیکل سامان اور اینستھیزیا کی شدید کمی ہے، مگر حکومت ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ صوبائی محکمہ صحت کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق [verify] کئی بڑے سرکاری اسپتال وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔

عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق پاکستان صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کا ڈیڑھ فیصد سے بھی کم خرچ کرتا ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ اس کم سرمایہ کاری کے باعث شہری اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ بڑھا ہے اور طبی عملے کو طویل اوقات کار میں کام کرنا پڑتا ہے۔

وائی ڈی اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز عید سمیت تعطیلات میں بھی مسلسل خدمات انجام دیتے ہیں، مگر انہیں مناسب سہولیات اور مراعات فراہم نہیں کی جاتیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کسی سینئر پروفیسر یا وائس چانسلر کی نگرانی میں کی جائیں تاکہ غیر جانبدار نتائج سامنے آ سکیں۔

ڈاکٹر مدثر اشرفی نے اعلان کیا کہ آئندہ لائحہ عمل کے لیے وائی ڈی اے کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معطل ڈاکٹروں کو بحال نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اجتماعی استعفے دیے جائیں گے، جس سے سرکاری اسپتالوں کی خدمات شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر جونیئر ڈاکٹروں نے بڑے پیمانے پر کام چھوڑ دیا تو ایمرجنسی اور آؤٹ پیشنٹ سروسز فوری طور پر متاثر ہوں گی، کیونکہ پاکستان کے سرکاری اسپتال پہلے ہی گنجائش سے زیادہ مریضوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ افراد سخت احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ دیگر طبی عملے کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔

یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کا صحت کا شعبہ بڑھتی آبادی اور محدود وسائل کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ مہینوں میں حکومت نے اسپتالوں کی گورننس بہتر بنانے کی بات کی ہے، مگر عملی پیش رفت سست رہی ہے۔ لیڈی ولنگڈن اسپتال کا یہ معاملہ مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کے طریقہ کار کے لیے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے، جبکہ Young Doctors Association کا ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر بنیادی مسائل حل نہ ہوئے تو کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

توانائی بحران: بجلی لوڈشیڈنگ بڑھنے کا خدشہ

حکومت مہنگے ایندھن اور قلت کے باعث سخت اقدامات پر غور کر رہی ہے پاکستان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے