بدھ , مئی 13 2026

Trump کا ایران پر حملے 10 روز کے لیےمؤخر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر مجوزہ حملے مزید 10 روز کے لیے مؤخر کر دیے، جس سے جاری سفارتی کوششوں کو مہلت مل گئی

امریکی صدر Donald Trump نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ Iran کی توانائی تنصیبات پر حملے 6 اپریل 2026 تک روک رہے ہیں۔ یہ اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کیا، جس میں کہا گیا کہ فیصلہ ایران کی حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے تاکہ بات چیت کا عمل جاری رکھا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ان حملوں کو صرف پانچ روز کے لیے مؤخر کیا تھا، جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی تھی۔ نئی توسیع اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ رابطے جاری ہیں اور فوری کشیدگی سے گریز کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور بعض میڈیا رپورٹس کے برعکس یہ بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ تاہم انہوں نے مذاکرات کی نوعیت، مقام یا شرکاء کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے کشیدہ رہے ہیں، جن کی بڑی وجہ ایران کا جوہری پروگرام اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ ہے۔ 2018 میں امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد ایران پر سخت معاشی پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔

توانائی کے شعبے میں ایران کی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران دنیا کے بڑے تیل اور گیس ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جس کے باعث اس کی توانائی تنصیبات کسی بھی ممکنہ تنازع میں اہم ہدف بن سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا تو عالمی تیل منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا تھا۔

حالیہ مہلت کو سفارتی پیش رفت کے لیے اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے عارضی اقدامات اکثر مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے کیے جاتے ہیں، تاہم اگر بات چیت ناکام ہو جائے تو صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں توانائی کی ترسیل اور سمندری راستوں کی سلامتی عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے، اور کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ خلیجی ممالک بھی مسلسل کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے رہے ہیں تاکہ تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو۔

آنے والے دنوں میں واشنگٹن اور تہران کی جانب سے مزید بیانات اور پیش رفت پر گہری نظر رکھی جائے گی، کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کے مستقبل پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے، جہاں امریکی پالیسی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مالی خسارہ 9 ماہ میں 856 ارب روپے تک پہنچ گیا

مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں پاکستان کی مالی صورتحال شدید دباؤ کا …