
سال میں دو انجیکشنز پر مبنی نئی دوا Zilebesiran ہائی بلڈ پریشر کے علاج میں بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور روزانہ گولیوں کی ضرورت کم کر سکتی ہے۔
اسلام آباد میں جاری طبی مباحثوں کے دوران ماہرین نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر، جسے Hypertension بھی کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجہ ہے اور پاکستان میں بھی دل کے دورے، فالج اور گردوں کے امراض کا اہم سبب بن رہا ہے۔ روایتی علاج میں مریضوں کو روزانہ ادویات لینا پڑتی ہیں، تاہم عدم تسلسل، لاگت اور مضر اثرات کے باعث علاج اکثر مکمل مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔
نئی تحقیق میں دوا Zilebesiran کو ایک ممکنہ متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو سال میں صرف دو انجیکشنز کے ذریعے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ دوا جدید RNA interference ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے، جو جگر میں بننے والے پروٹین Angiotensinogen کی پیداوار کو کم کرتی ہے۔ یہ پروٹین جسم کے Renin-Angiotensin-Aldosterone System کا اہم حصہ ہے، جو بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق روایتی ادویات زیادہ تر بلڈ پریشر کے اثرات کو کم کرتی ہیں، جبکہ یہ نئی دوا اس کے بنیادی سبب کو نشانہ بناتی ہے۔ حالیہ کلینیکل ٹرائلز، جن میں KARDIA-1 اور KARDIA-2 شامل ہیں، میں دیکھا گیا کہ جلد کے نیچے لگایا جانے والا ایک انجیکشن چھ ماہ تک بلڈ پریشر کو نمایاں حد تک کم رکھتا ہے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق ہلکے سے درمیانے درجے کے مریضوں میں ایک ڈوز سے 24 گھنٹے کے اوسط بلڈ پریشر میں 10 ملی میٹر مرکری سے زائد کمی دیکھی گئی، جو چھ ماہ تک برقرار رہی۔ اسی طرح وہ مریض جو پہلے سے ادویات استعمال کر رہے تھے مگر کنٹرول حاصل نہیں کر پا رہے تھے، ان میں اضافی طور پر 4 سے 12 ملی میٹر مرکری تک سسٹولک بلڈ پریشر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
طبی جریدے The Lancet میں 2026 میں شائع ہونے والے تجزیے میں کہا گیا کہ اگر طویل مدتی نتائج بھی اسی طرح مثبت رہے تو یہ علاج ہائی بلڈ پریشر کے انتظام میں بنیادی تبدیلی لا سکتا ہے اور دل کے دورے اور فالج کے خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ ادویات لینے میں مریضوں کی تعمیل ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق 80 فیصد سے زائد مریض باقاعدگی سے دوا نہیں لیتے، جس سے بیماری کنٹرول میں نہیں آتی۔ سال میں صرف دو بار انجیکشن لگوانا اس مسئلے کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے اور علاج کو آسان بنا سکتا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں یہ پیش رفت خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں شہری آبادی اور عمر رسیدہ افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ محدود مالی وسائل اور صحت سے متعلق آگاہی کی کمی کے باعث بہت سے مریض مستقل علاج جاری نہیں رکھ پاتے، جس سے پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ دوا ابھی حتمی منظوری کے مراحل میں ہے اور عام دستیابی میں وقت لگ سکتا ہے۔ اس دوران مریضوں کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق موجودہ ادویات جاری رکھیں اور صحت مند طرز زندگی اپنائیں، جس میں کم نمک کا استعمال، باقاعدہ ورزش، وزن میں توازن اور ذہنی دباؤ سے بچاؤ شامل ہیں۔
اگر Zilebesiran مستقبل میں وسیع پیمانے پر دستیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف علاج کے طریقہ کار کو آسان بنا سکتی ہے بلکہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں لاکھوں مریضوں کے لیے زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے، جہاں Hypertension ایک بڑھتا ہوا عوامی صحت کا چیلنج بنا ہوا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے ، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
UrduLead UrduLead