پاکستان میں ممکنہ ایران۔امریکا مذاکرات 15 نکاتی امریکی تجاویز کے بعد متوقع، پابندیوں میں نرمی اور جوہری پروگرام اہم نکات

ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان ممکنہ مذاکرات جمعہ کو پاکستان میں ہونے کا امکان ہے، جہاں 15 نکاتی امریکی تجاویز پر بات چیت متوقع ہے
ایک پاکستانی عہدیدار نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو بتایا کہ پاکستان نے امریکا کی تیار کردہ تجاویز ایران تک پہنچا دی ہیں، جن میں پابندیوں میں نرمی کے ساتھ ساتھ جوہری اور میزائل پروگرام سے متعلق شرائط شامل ہیں۔ ایک مصری عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ یہ تجاویز وسیع تر سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا، بیلسٹک میزائل سرگرمیوں پر پابندیاں، اور آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھنے کی ضمانت شامل ہے۔ امریکی تجاویز میں خطے میں مسلح گروہوں کی ایرانی حمایت ختم کرنے کی شرط بھی شامل ہے، جسے ممکنہ جنگ بندی معاہدے کا بنیادی حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی شرائط پر اتفاق ہو گیا تو مذاکرات پاکستان میں ہوسکتے ہیں۔ پاکستان، مصر اور چند دیگر ممالک حالیہ مہینوں میں امریکا اور ایران کے درمیان پس پردہ رابطوں میں کردار ادا کرتے رہے ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے امریکا اور ایران کے تعلقات میں بنیادی مسئلہ رہا ہے۔ حالیہ مذاکرات میں یورینیم افزودگی کی حد، بین الاقوامی معائنہ، اور اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی جیسے نکات زیر بحث رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی نئے معاہدے کے لیے ان تینوں امور پر پیش رفت ضروری سمجھی جاتی ہے۔
عالمی توانائی منڈیوں کے لیے بھی یہ مذاکرات اہم قرار دیے جا رہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ کسی بھی کشیدگی یا بندش سے عالمی قیمتوں میں تیزی آسکتی ہے، اسی لیے امریکا اور اس کے اتحادی سمندری راستوں کی سکیورٹی کو معاہدے کا لازمی حصہ بنانا چاہتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ممکنہ میزبان کے طور پر سامنے آنا اس کے متوازن سفارتی تعلقات کی وجہ سے ہے۔ اسلام آباد کے تہران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں جبکہ امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھی سکیورٹی اور اقتصادی روابط موجود ہیں، جس کی وجہ سے وہ ثالثی کے لیے قابل قبول ملک سمجھا جاتا ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ پاکستان میں ملاقات کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم رابطے جاری ہیں اور دونوں فریق کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز چاہتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف ایران امریکا تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال پر اثر انداز ہوں گے۔
UrduLead UrduLead