جمعرات , مارچ 26 2026

پیٹرولیم قیمتیں ان فریز کرنے پر غور

جیٹ فیول اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے بعد حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق ایڈجسٹ کرنے اور محدود سبسڈی دینے پر غور کر رہی ہے

حکومت جیٹ فیول اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی رجحانات کے مطابق ان فریز کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی متعارف کرانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، سرکاری حکام نے بتایا کہ موجودہ پالیسی زیادہ دیر تک برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔

ڈان اخبار کے مطابق پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں گزشتہ چند ہفتوں سے منجمد رکھی گئی ہیں، لیکن جیٹ فیول (JP-1) اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں خاموشی سے نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سرکاری نرخوں کے مطابق جیٹ فیول کی قیمت 21.65 فیصد اضافے کے بعد 472 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے جو پہلے 388 روپے تھی، اور یہ نئی شرح 21 مارچ سے نافذ العمل ہے۔ یکم مارچ سے اب تک جیٹ فیول کی قیمت میں تقریباً 150 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جب یہ 190 روپے فی لیٹر تھی۔

اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت ایک ہفتے کے دوران تقریباً 20 فیصد اضافے کے بعد 429 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے جو پہلے 358 روپے تھی۔ یکم مارچ کے بعد سے کرسن کی قیمت میں مجموعی طور پر 127 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومتی حکام کے مطابق ابتدائی طور پر تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں منجمد کر دی گئی تھیں اور اس مقصد کے لیے تقریباً 69 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے مقررہ اہداف تو حاصل کر لیے، لیکن رمضان کے دوران قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے ترقیاتی منصوبوں اور قدرتی آفات کے ایمرجنسی فنڈز سے رقم منتقل کرنا پڑی۔

ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ حکومت اس وقت ڈیزل پر تقریباً 175 روپے فی لیٹر اور پٹرول پر 75 روپے فی لیٹر کا مالی بوجھ برداشت کر رہی ہے اور قیمتوں کو زیادہ عرصے تک مصنوعی طور پر روکے رکھنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق جتنی دیر ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر کی جائے گی، مستقبل میں اتنا ہی زیادہ اضافہ کرنا پڑے گا جس کا اثر مہنگائی پر بھی پڑے گا۔

یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعظم کی ہدایت پر قائم خصوصی کابینہ کمیٹی برائے پیٹرولیم قیمتیں کا اجلاس ہوا جس میں عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ، مقامی سپلائی صورتحال اور مالی بوجھ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں حکام نے بتایا کہ بین الاقوامی اور مقامی قیمتوں کے درمیان فرق کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ بروقت اور متوازن پالیسی فیصلہ کیا جا سکے۔

اجلاس میں عام سبسڈی جاری رکھنے کے بجائے دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے محدود اور ہدفی سبسڈی دینے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا، کیونکہ حکام کے مطابق زیادہ تر کم آمدنی والے صارفین اسی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ اس تجویز کا مقصد یہ ہے کہ قیمتوں کو مکمل طور پر منجمد رکھنے کے بجائے صرف ضرورت مند طبقے کو ریلیف دیا جائے۔

حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر ہیں اور درآمدی شیڈول محفوظ ہے۔ مارچ اور اپریل کے لیے فیول کارگو بک کیے جا چکے ہیں جبکہ ریفائنریاں معمول کی استعداد پر کام کر رہی ہیں جس سے سپلائی چین میں کسی فوری رکاوٹ کا خطرہ نہیں۔

وزیر خزانہ نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت دی کہ عالمی تیل مارکیٹ، مقامی اسٹاکس اور سپلائی چین کی مسلسل نگرانی کی جائے کیونکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کی وجہ سے بین الاقوامی قیمتوں میں تیزی آ سکتی ہے۔ حکام نے عالمی بینچ مارک قیمتوں، درآمدی لاگت اور مقامی کھپت کے اعداد و شمار پر مبنی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔

فی الحال پٹرول تقریباً 321.17 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 335.86 روپے فی لیٹر پر منجمد ہیں، تاہم توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی قیمتوں میں موجودہ اتار چڑھاؤ جاری رہا تو حکومت کو جلد یا بدیر پیٹرولیم قیمتیں ان فریز کرنا پڑیں گی، کیونکہ موجودہ مالی بوجھ طویل مدت تک برقرار رکھنا ممکن نہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ایران امریکا ملاقات پاکستان میں جمعہ کو متوقع

پاکستان میں ممکنہ ایران۔امریکا مذاکرات 15 نکاتی امریکی تجاویز کے بعد متوقع، پابندیوں میں نرمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے