بدھ , مارچ 18 2026

ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان-بھارت ایک ہی پول

ایف آئی ایچ ورلڈ کپ میں پاکستان کو بھارت، انگلینڈ اور ویلز کے ساتھ پول ڈی میں شامل کر دیا گیا، ٹورنامنٹ اگست میں بیلجیم اور نیدرلینڈز میں ہوگا۔

انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے رواں سال ہونے والے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ کے گروپس کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق پاکستان کو روایتی حریف بھارت کے ساتھ پول ڈی میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ اسی گروپ میں انگلینڈ اور ویلز کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔ ٹورنامنٹ اگست میں بیلجیم اور نیدرلینڈز کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا اور اس گروپ کو مقابلے کا سب سے سخت پول قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گروپس کا تعین شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا اور پاکستان کو ایک مضبوط گروپ میں رکھا گیا ہے جہاں اسے عالمی درجہ بندی میں بہتر پوزیشن رکھنے والی ٹیموں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیان کے مطابق پاکستان ٹیم کو بھارت، انگلینڈ اور ویلز کے خلاف میچز کھیلنا ہوں گے جو ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں ہی سخت مقابلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں شامل کیے جانے کے بعد شائقین ہاکی کی توجہ اس مقابلے پر مرکوز ہو گئی ہے کیونکہ دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ کھیل کی تاریخ کی بڑی روایتی رقابتوں میں شمار ہوتا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان عالمی سطح پر مقابلے گزشتہ چند برسوں میں کم دیکھنے کو ملے ہیں، جس کی وجہ پاکستان کی عالمی رینکنگ میں کمی اور محدود بین الاقوامی شرکت رہی ہے۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں عالمی ہاکی میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور ایف آئی ایچ پرو لیگ میں شرکت کے بعد اسے ٹاپ رینک ٹیموں کے خلاف کھیلنے کے زیادہ مواقع ملے۔ ماہرین کے مطابق بھارت کے خلاف میچ نہ صرف شائقین بلکہ عالمی میڈیا کی توجہ بھی حاصل کرے گا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ہاکی کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔

ایف آئی ایچ کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق پول اے میں نیدرلینڈز، ارجنٹینا، نیوزی لینڈ اور جاپان شامل ہیں، جبکہ پول بی میں بیلجیم، جرمنی، فرانس اور ملائیشیا کو رکھا گیا ہے۔ پول سی میں آسٹریلیا، اسپین، آئرلینڈ اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، جبکہ پول ڈی میں بھارت، پاکستان، انگلینڈ اور ویلز کو ایک ساتھ رکھا گیا ہے۔

ہاکی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے اس ورلڈ کپ میں کارکردگی انتہائی اہم ہوگی کیونکہ طویل عرصے سے ٹیم عالمی سطح پر نمایاں نتائج حاصل نہیں کر سکی۔ پاکستان ماضی میں چار مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ جیتنے والی واحد ٹیم رہ چکی ہے، تاہم حالیہ دہائی میں ٹیم کو مالی مسائل، انتظامی تبدیلیوں اور محدود بین الاقوامی ایکسپوژر کے باعث مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

ٹورنامنٹ کے منتظمین کے مطابق بیلجیم اور نیدرلینڈز میں ہونے والا یہ ورلڈ کپ عالمی ہاکی کیلنڈر کا سب سے بڑا ایونٹ ہوگا اور اس میں دنیا کی بہترین ٹیمیں شرکت کریں گی۔ شائقین کی نظریں خصوصاً پاکستان اور بھارت کے مقابلے پر ہوں گی جسے اس ورلڈ کپ کا سب سے زیادہ متوقع میچ قرار دیا جا رہا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بارش اور آندھی کا نیا الرٹ: محکمہ موسمیات

محکمہ موسمیات نے 17 سے 20 مارچ کے دوران ملک میں مزید بارش، تیز ہواؤں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے