
پی ایم ڈی سی نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو ہر طالبعلم کی بروقت رجسٹریشن یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے خلاف ورزی پر جرمانے اور نشستوں میں کمی کی وارننگ جاری کردی۔
Pakistan Medical and Dental Council نے ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو ہدایت کی ہے کہ داخلہ لینے والے ہر طالبعلم کی لازمی رجسٹریشن مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائے، بصورت دیگر اداروں پر بھاری جرمانے اور انتظامی کارروائی کی جائے گی۔ کونسل کی جانب سے جاری مراسلے میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے اداروں کو قواعد پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مراسلے کے مطابق اگر کوئی کالج مقررہ وقت میں طالبعلم کی رجسٹریشن نہیں کرتا تو فی طالبعلم پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ پی ایم ڈی سی نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ حالیہ برسوں میں داخلوں اور رجسٹریشن کے عمل میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کے بعد کیا گیا ہے، جن کی نشاندہی مختلف انسپکشن رپورٹس میں کی گئی تھی۔
کونسل نے مزید ہدایت کی کہ اگر کوئی ادارہ مختص نشستوں سے زائد داخلے کرے گا تو ہر اضافی طالبعلم کی سو فیصد فیس وصول کی جائے گی، جبکہ قواعد کے خلاف داخلہ لینے والے طلبہ پر بھی مکمل فیس لاگو ہوگی۔ ریگولیٹر نے خبردار کیا کہ بار بار خلاف ورزی کرنے والے کالجز کی آئندہ تعلیمی سال میں نشستیں کم کی جا سکتی ہیں، جو میڈیکل کالجوں کے لیے بڑی انتظامی سزا سمجھی جاتی ہے۔
پی ایم ڈی سی حکام کے مطابق گریجویشن رپورٹ تاخیر سے جمع کرانے پر پچھتر ہزار روپے فی طالبعلم جرمانہ عائد ہوگا، جبکہ سالانہ امتحانی نتائج بروقت رپورٹ نہ کرنے کی صورت میں تیس ہزار روپے فی طالبعلم جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ کونسل نے کہا کہ تعلیمی ریکارڈ کی بروقت فراہمی میڈیکل تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ میرٹ لسٹ یا داخلہ فہرست تاخیر سے جاری کرنے پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ تاخیر جاری رہنے پر یومیہ پچاس ہزار روپے اضافی جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔ پی ایم ڈی سی کے مطابق تین مرتبہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو کونسل کی گرے لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد ان کی منظوری، نشستوں اور داخلوں پر مزید پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت 170 سے زائد سرکاری اور نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجز کام کر رہے ہیں، جن کی نگرانی Pakistan Medical and Dental Council کے سپرد ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں، اضافی داخلوں اور رجسٹریشن میں تاخیر کے معاملات بار بار عدالتوں اور ریگولیٹری فورمز میں زیر بحث آتے رہے ہیں، جس کے بعد حکومت نے ریگولیٹری نظام سخت کرنے کی ہدایت دی تھی۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق میڈیکل تعلیم کے شعبے میں شفاف داخلہ نظام اور بروقت رجسٹریشن نہ ہونے سے نہ صرف طلبہ متاثر ہوتے ہیں بلکہ ڈگری کی تصدیق اور ہاؤس جاب کے مراحل میں بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے حالیہ برسوں میں پی ایم ڈی سی کو دوبارہ فعال بنا کر اسے سخت اختیارات دیے گئے تاکہ معیار کو بین الاقوامی سطح کے مطابق رکھا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی ہدایات کا مقصد میڈیکل تعلیم کے نظام کو منظم کرنا اور غیر قانونی داخلوں کا خاتمہ ہے، جبکہ Pakistan Medical and Dental Council آئندہ بھی انسپکشن اور مانیٹرنگ کا عمل جاری رکھے گی تاکہ آئندہ تعلیمی سیشن میں قواعد کی مکمل پابندی یقینی بنائی جا سکے۔
UrduLead UrduLead